| کامیاب استاد كون؟ |
تفاصیل میں پڑنے سے گریز کرے اس طرح طلباء کا ذہن منتشرہوجاتا ہے اور وہ اصل سبق اور زائد تفصیل میں امتیاز نہیں کرپاتے اور دوسرے دن سبق سنانے میں ناکام رہتے ہیں۔آخر میں اس وضاحت کو عبارت پر منطبق کرے اور طلباء کو اس سبق پر غور کرنے اور(خصوصاً ابتدائی درجات کے طلباء کو) اسے اپنی زبان پر رواں کرنے کے لئے مختصر وقفہ ضرور دے کہ انہیں پڑھایا گیا سبق مکمل سمجھ آگیا ہے یا نہیں ؟
طلباء کے سوالات کے جوابات کس طرح دے ؟
جب طلباء سبق پر غور کر چکیں تو انہیں شفقت بھرے انداز میں سوالات کرنے کی پیش کش کرے ۔اب کوئی طالب العلم سوال کرے تو اس کی بات کو غور سے سنے ۔ اگر وہ اپنا مافی الضمیر ٹھیک سے بیان نہ کرپائے تو اسے شرمندہ کرنے اور سخت وسست کہنے کی بجائے خود اس سوال کو مرتب کر کے اس کا جواب طلباء کے سامنے پیش کرے اور اگر کسی سوال کا جواب نہ آتا ہوتو بات گھمانے یا غلط جواب دینے کی بجائے دوسرے دن جواب دینے کا وعدہ کر لے ۔اگر کوئی طالب العلم سبق سے ہٹ کر سوال کردے تو اسے جھاڑنے کی بجائے نرمی سے سوال کرنے کے آداب سمجھا دے ۔ سوال کرنے کے چند آداب ملاحظہ ہوں ،
(۱) مدرس کے درسی بیان کے دوران سوال نہ کرے کہ ہوسکتا ہے کہ اس کی بات کا جواب آگے آرہاہو ۔
(۲) سوال سبق سے ہٹ کر نہ ہو ۔
(۳) وہ سوال دیگر طلباء کی ذہنی سطح کے مطابق ہو بصورتِ دیگر تعلیمی اوقات کے بعد استاذ سے دریافت کر لے ۔