Brailvi Books

کامیاب استاد كون؟
22 - 44
کردے تاکہ طالب العلم قلبی طور پر بھی مطمئن ہوجائے اور آئندہ ایسی غلطی نہ کرے۔ اگر وقت میّسر ہوتو (خصوصاً ثانیہ وثالثہ وغیرہ کے درجات میں ) عبارت پر نحوی وصرفی اعتبار سے مختلف طلباء سے سوالات بھی کر لے مثلاً بَاعَکون سا صیغہ ہے ،یا آپ نے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ پڑھتے وقت اسم جلالت (اللہ) پر کسرہ کیوں پڑھا، یا سُنَنُھَا میں ھَا ضمیر کا مرجع کون ہے ؟ وغیرھا۔۔۔۔۔۔ لیکن اس سلسلے کو زیادہ طویل نہ کرے کہ طلباء بوریت کا شکار ہوسکتے ہیں نیز اصل سبق رہ جانے کا بھی قوی امکان ہوتا ہے ۔

     جہاں ایک بات مکمل ہوجائے وہاں عبارت پڑھنے والے طالب العلم کو روک دے اوردوسرے طالب العلم سے ترجمہ کروائے پھر اس عبارت کا مفہوم طلباء کے سامنے بیان کرے ۔اگر سبق میں کوئی اصطلاح استعمال کی گئی ہویا کسی اعتراض ِ مقدر کا جواب دیا گیا ہو یا کوئی لفظ مقدّر (پوشیدہ یا محذوف)ہوتو اس کی وضاحت بھی کر دے۔دورانِ بیان اتنی آواز سے بولے کہ سب طلباء سن لیں اور الفاظ کی ادائیگی کی رفتار بھی مناسب رکھے اتنی تیزی سے نہ بولے کہ طلباء کی سماعت اس کی آواز کا ''تعاقب '' کرنے میں ناکام رہے ۔

     اس کے بعد اگر ضرورت محسوس ہو تو طلباء کو ضروری بات بطورِ حاشیہ لکھوا دے یااس عبارت پر دیا گیا عربی حاشیہ سمجھا دے ۔اس کے بعد اس عبارت کا خود ترجمہ کرے اورکسی دوسرے طالب العلم سے اگلی عبارت پڑھوائے اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ طلباء کی اکثریت کو عبارت پڑھنے یا اس کا ترجمہ کرنے کا موقع میسّر آئے گا جس سے ان کا عربی تلفظ بہتر ہوگا ۔ جہاں کوئی بات پوری ہوجائے وہاں سابقہ عمل دہرائے ۔ 

    جب مقررہ سبق پورا ہوجائے تو طلباء کی ذہنی سطح کے مطابق پورے سبق کی