پڑھے ۔پھر نبی کریم ا پر دُرودِ پاک پڑھے اگر طلباء کو بھی ساتھ شامل کرلے تو بہت خوب ہے مثلاً استاذ ان صیغوں کو پڑھتا جائے اور طلباء اس کے ساتھ ساتھ کہتے جائیں ،
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ
وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہ
وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَا نُوْرَ اللہ
عربی سبق پڑھانے کا طریقہ:
عربی سبق میں طلباء کو کم از کم تین چیزیں حاصل ہونا بے حد ضروری ہیں ، پہلی: عبارت کا صحیح تلفظ ،دوسری: اس عبارت کا بامحاورہ ترجمہ اور تیسری : اس عبارت سے مصنف کا مقصود کیا ہے؟ الحمدللہ عزوجل ! درجِ ذیل طریقہ تدریس کی برکت سے یہ تینوں امور بآسانی حاصل ہوسکتے ہیں ۔
استاذ کو چاہيے کہ(وسعتِ وقت کی صورت میں)بلا تعیین تمام طلباء سے عبارت پڑھوائے۔اگر طالب العلم عبارت پڑھنے میں غلطی کرے تو اس کی (مع دلیل ) اصلاح