متن سے تعلق نہ رکھنے والی کسی بحث کو اپنے درسی بیان میں ہرگز شامل نہ کرے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ طلباء اس میں دل چسپی بھی لیں اور ان پر استاذ کے کثرتِ مطالعہ کی دھاک بھی بیٹھ جائے لیکن وہ اصل سبق سے محروم رہ جائیں اورجب امتحان قریب آجائیں تو نصاب کی عدمِ تکمیل پر پریشان حال دکھائی دیں ۔
درسی بیان مرتب کرنے کے بعد اس پر نظر ثانی ضرور کرے۔اگر اس میں کچھ ایسے الفاظ شامل ہوگئے ہوں جو طلباء کے لئے مشکل ہوں تو ان کی جگہ آسان الفاظ کی ترکیب بنائے۔ اسی طرح اگر سبق کی ترتیب میں نقص محسوس ہو مثلاً جونکتہ آخر میں ہے اسے پہلے کہنا زیادہ مناسب ہو تو ترتیب ضرور درست کر لے ۔ پھر اگر اس بیان کے نتیجے میں کوئی اعتراض پیدا ہوتا ہو یا سوال اٹھتا ہو تو اس کا جواب بھی ہاتھوں ہاتھ تیار کر لے تاکہ درجہ میں کسی طالب علم کے سوال کرنے پر سوچ وبچار میں صرف ہونے والا وقت بچ سکے ۔