| کامیاب استاد كون؟ |
کے طلباء کو اتنی محنت سے پڑھایا ،مجھ میں کوئی کمی نہیں ہے لیکن ان کے دماغ میں تو لگتا ہے ''بھُوسا'' بھرا ہوا ہے انہیں کوئی بات سمجھ ہی نہیں آتی ۔''اوراس کا تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ ان پر کامل طور پر عمل کرنے اور اپنی کامیابی کی صورت میں خود پسندی کا شکار نہیں ہوں گے کہ میرا انداز ِ تدریس بہت اچھا ہے ، میں تو مٹی کو بھی ہاتھ لگاتا ہوں توسونا بن جاتی ہے ، فلاں درجے کو کئی اساتذہ نے پڑھایا لیکن اس درجہ کے طلباء ان سے مطمئن نہ ہوپائے اور جب میں نے ان طلباء کو پڑھایا تو وہ اَش اَش کر اٹھے ،وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔
پڑھانے کے لئے مطالعہ کس طرح کرے ؟
اسباق کی بہترین تیاری کے لئے مدرس کو چاہے کہ جب مطالعہ کرنے بیٹھے تو سب سے پہلے یہ جائزہ لے کہ کل مجھے کس مضمون کا کتنا سبق پڑھانا ہے ؟(اس سلسلے میں انتظامیہ کی طرف سے دئيے گئے نصاب کو تعلیمی ایام پر تقسیم کرلینا بے حد مفید ہے ) پھروقتِ مطالعہ کو تمام مضامین کے حجم کے اعتبار سے تقسیم کر لے مثلاً اس کے پاس مطالعہ کے لئے تین گھنٹے ہوں اور اسے چھ اسباق کی تیاری کرنی ہے تو جس سبق کے مطالعہ میں زیادہ وقت صرف ہو اس کے لئے زیادہ وقت اور جس سبق کے مطالعہ میں تھوڑا وقت صرف ہو اس کے لئے کم وقت مقرر کر لے ،علی ھذا القیاس ۔ اس تقسیم کا فائدہ یہ ہوگا کہ کم سے کم وقت میں تمام مضامین کی تیاری ممکن ہوسکے گی ۔
اس کے بعدمطالعہ کا آغاز کرتے ہوئے اولاً سبق کے متن کا مطالعہ کرے ، پھر اگر عربی کتاب ہوتو اس کی عبارت کے اعراب ،حل ِ لغات اورمفہوم پر غور وتفکر کرے ۔ اس سلسلے میں متن سے متعلقہ حواشی وشروحات کا ضرور مطالعہ کرے کہ اس سے سبق کا درست مفہوم سمجھنے میں مدد بھی ملے گی اور استاذ کی معلومات میں بھی اضافہ ہوگا۔ کسی بھی سبق کے