Brailvi Books

کامیاب استاد كون؟
17 - 44
گے ۔ علی ھذاا لقیاس ۔۔۔۔۔۔

     لہذا!مسند ِ تدریس پر متمکن ہونے والا اگر خود کو دنیاوی واخروی اعتبار سے کامیاب دیکھنا چاہتا ہے تو اسے چاہيے کہ اپنی ذات میں مذکورہ بالا اوصاف اجاگر کرے ۔
سبق کس طرح پڑھائے؟
    واقفان ِ حال پر مخفی نہیں کہ کسی بھی سبق کو پڑھانے کے لئے اس کی پیشگی تیاری کرنا اَز حد ضروری ہے اور یہی ہمارے اسلاف کا طریقہ رہا ہے کیونکہ جب تک استاذ کو کسی سبق کے بارے میں معلومات مستحضر نہ ہوں، وہ انہیں طلباء تک کامل طور پر نہیں پہنچا سکتا ۔ چنانچہ اگر کوئی استاذ (بالخصوص نیا استاذ )اسباق تیار کئے بغیر پڑھانے بیٹھ جائے تو غلطیوں کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے ۔عین ممکن ہے کہ موصوف جوکچھ بیان فرمائیں کتاب میں اس کے برعکس بیان کیا گیا ہو ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ طلباء کو مطمئن نہیں کرپائے گا اور عدمِ اطمئنان کا یہ سلسلہ طویل ہونے کی صورت میں انتظامیہ اس کی خدمات لینے سے معذرت بھی کرسکتی ہے ۔

     لہذا!استاذ کو چاہيے کہ سبق کی تیاری ، درسی بیان مرتب کرنے ، درجہ میں سبق پڑھانے ، طلباء کے سوالات کے جوابات دینے ، طلباء کو ہوم ورک دینے ، دوسرے دن ان سے سبق سننے کے سلسلے میں نیچے دی گئی گزارشات پر عمل کرے ، مگر یاد رہے کہ ان تمام طریقوں کا تعلق اسباب سے ہے اور ہمیں اپنی نگاہ اسباب پر نہیں ' خالق ِ اسباب پر رکھنی چاہيے۔ اس کا ایک فائدہ تویہ ہوگا کہ اگر آپ مذکورہ طریقوں پر کاملاًعمل نہ بھی کرپائے تب بھی آپ احساس ِ کمتری میں مبتلاء نہیں ہوں گے ۔جبکہ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کبھی اس قسم کے شکووں میں مبتلاء نہیں ہوں گے کہ'' میں نے فلاں درجے (کلاس)
Flag Counter