(۴۱)اُس استاذ کی تجہیل نہیں کروں گا ۔
(۴۲) طلباء کو سزا دینے میں شرعی اجازت سے تجاوز نہیں کروں گا۔
(۴۳) کسی کی حق تلفی نہیں کروں گا۔
(۴۴)اگر مجھ سے نادانستہ طور پر کسی کی حق تلفی ہوگئی تو معافی مانگنے میں دیر نہیں کروں گا ۔
(۴۵)غم زدہ اسلامی بھائی کی غم خواری کروں گا ۔
(۴۶)بیمار اسلامی بھائی کی عیادت کروں گا ۔
(۴۷)آپس میں ناراض ہوجانے والے اسلامی بھائیوں میں صلح کروانے کی کوشش کروں گا ۔
(۴۸) اگر کسی اسلامی بھائی کو مالی مدد کی ضرورت ہوئی تو ناظم صاحب کے مشورے یا ان کے ذریعے سے اس کی مالی مدد کر کے راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرنے کا ثواب لوں گا ۔
(۴۹،۵۰) اگر کبھی تنگ دستی نے آگھیرا تو بھی بلاضرورتِ شرعی کسی سے سوال نہیں کروں گا بلکہ ایسی صورت میں قرض لے کر اپنی مشکل حل کروں گا اور قرض حسب ِ وعدہ واپس بھی لوٹا دوں گا ۔
(۵۱) اپنا وقت فضول کاموں میں ضائع نہیں کروں گا بلکہ پڑھائی اور مدنی کاموں میں مشغول رہوں گا ۔
(۵۲)اپنے علم پر عمل کرنے کے لئے مدنی انعامات(ان کی وضاحت آخری صفحات میں دی گئی ہے ،) پر عمل کروں گا ۔
(۵۳)دعوتِ اسلامی کے راہِ خدا عزوجل میں سفر کرنے والے مدنی قافلوں میں سفر کیاکروں گا۔ ان شاء اللہ عزوجل