میں شرم محسوس نہیں کروں گا اور مضمون کی تبدیلی کی درخواست کروں گا ۔
(۲۹)زیادتی ئ علم پر شکر کروں گا اور تکبر سے بچوں گا ۔
(۳۰)اگر ناظم صاحب یا انتظامیہ کی کوئی بات ناگوار گزری تو خاموش رہ کر صبر کروں گا ۔
(۳۱) کسی استاذ صاحب کی کمزوریاں معلوم ہونے کی صور ت میں ان کا چرچا نہیں کروں گا ۔
(۳۲)درجے یا مکتب میں بیٹھ کر کسی استاذ یا مجلس کے کسی فرد بلکہ کسی بھی مسلمان کی غیبت نہیں کروں گا ۔
(۳۳)کسی مسلمان کا کینہ اپنے دل میں نہیں پالوں گا ۔
(۳۴)جائز سفارش کرنے کا موقع ملا تو ضرور کروں گا ۔
(۳۵) جامعہ کے جدول پر عمل کروں گا ۔
(۳۶)اگر مجھے کسی کی شکایت کی وجہ سے ندامت اٹھانی پڑی تو میں اسے شرمندہ کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں نہیں رہوں گا ۔
(۳۷)پورے بدن(مثلاً زبان ،آنکھ ،پیٹ وغیرہ) کا قفلِ مدینہ لگاؤں گا(یعنی انہیں خلافِ شرع استعمال ہونے سے بچاؤں گا )۔
(۳۸)بلااجازت کسی کی کتاب یا کاپی یا قلم وغیرہ استعمال نہیں کروں گا ۔
(۳۹) اگر سبق سمجھنے میں ناکام رہا تو اپنے سے (بظاہر)کم تجربے والے استاذ سے پوچھنے میں شرم محسوس نہیں کروں گا۔
(۴۰)اور اگر مجھ سے کسی دوسرے استاذ کے طالب علم یا خوداس استاذ صاحب نے سبق کے بارے میں دریافت کیا تو حتی المقدور احسن انداز میں سمجھانے کی کوشش کرکے مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کے فضائل پاؤں گا ۔