فضول قسم کے ناولوں اور ڈائجسٹ پڑھنے سے مکمل گریز کرے ۔ انتظامیہ کے کسی فرد یا کسی استاذ کی (معاذ اللہ عزوجل ) نقلیں اتار کر اپنے لئے دنیا وآخرت کی تباہی کے اسباب پیدا نہ کرے ۔اگر انتظامیہ قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی بنا پر کسی طالبُ العلم کو سرزنش کرے یا کوئی نوٹس جاری کرے تو اسے چاہے کہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی کا طلبگار ہو نہ کہ اَکڑنا شروع کردے ۔
طالبُ العلم کو چاہيے کہ کبھی بھی بلاحاجتِ شدیدہ چھٹی نہ کرے کہ اس سے برکت جاتی رہتی ہے اور سبق کا نقصان الگ سے ہوتا ہے ۔اس سلسلے میں اکابرین کا طرزِ عمل ملاحظہ ہو :
فقہ حنفی کی مشہور کتاب ھدایہ کے مؤلف شیخ الاسلام امام برھان الدین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے تمام ساتھیوں پر صرف اس لئے فوقیت لے گیا کہ میں نے دورانِ تعلیم کبھی چھٹی نہیں کی ۔ (تعلیم المتعلم طریق التعلم ،ص۸۳)
اعلیٰ حضرت ،مجددِ دین وملت الشاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنِ کی ہمشیرہ محترمہ آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے بچپن کے بارے میں فرماتی ہیں :اعلیٰ حضرت نے کبھی پڑھنے میں ضد نہیں کی ۔خود سے برابر پڑھنے کو تشریف لے جایا کرتے ،جمعہ کے دن بھی چاہا کہ پڑھنے کو جائیں مگر والد صاحب کے منع فرمانے پر رُک گئے اور سمجھ لیا کہ ہفتہ میں جمعہ کے دن کی بہت اہمیت کی وجہ سے نہیں پڑھنا چاہيے ،باقی چھ دن پڑھنے کے ہیں ۔''(حیاتِ اعلیٰ حضرت ، ج۱،ص۶۹)
ہر طالبُ العلم کو چاہے کہ اپنی جامعہ کے جدول (نظام الاوقات )پر پابندی سے عمل کرے اور اپنی مرضی کے مطابق وقت گزارنے کی بجائے اپنی سوچ کو اپنے اساتذہ و