جامعات کا انتظام وانصرام چلانے میں انتظامیہ کی اہمیت مسلمّہ ہے۔لہذا طالبُ العلم کو چاہيے کہ انتظامیہ کے افراد سے حسنِ اخلاق سے پیش آئے ۔ اگر اسے مطبخ(کچن) یا دیگر معاملات میں انتظامیہ کی کسی کمزوری کا پتا چلے تو اسے عام کرکے انتشار پھیلانے کی بجائے براہِ راست ذمہ داران سے رجوع کرے ، مثلاً کھانے میں نمک کی کمی پر شور مچانا ، یا مزیدار کھانا نہ ملنے پرسراپأ احتجاج بننا ، طالبُ العلم کے وقار کے منافی ہے ۔ انتظامیہ کی طرف سے وقتاً فوقتاًجوہدایات جاری کی جائیں ،ان پر عمل کرنے میں سستی کا مظاہرہ نہ کرے۔جب کبھی انتظامیہ کی طرف سے مستحق طلبہ کے لئے کسی سہولت مثلاً کتابوں کی فراہمی ، یا نظر کے چشمے (عینکیں)وغیرہ مفت دینے، یا ضرورت مند طلبہ کے لئے چھٹیوں میں گھر جانے کا کرایہ فراہم کرنے کی پیش کش کی جائے توہر طالبُ العلم کو چاہے کہ ایک سو ایک مرتبہ غور کر لے کہ کیا میں اس سہولت کا حقدارہوں یا نہیں ، اگر جواب ہاں میں ہو تو ضرور سہولت سے فائدہ اٹھائے ورنہ اس کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دے ۔
طالبُ العلم کو چاہے مختلف قسم کی شرارتوں کا ارتکاب کر کے انتظامیہ کے لئے پریشانی کا سبب بننے سے باز رہے ۔نیز اپنا وقت نصابی کتب کے مطالعہ میں صرف کرے ،