طرف رغبت ديکھی تو ان سے ارشاد فرمايا تم جاؤ اور علم حديث حاصل کرو کیونکہ آپ نے اندازہ لگا ليا تھا کہ ان کی طبيعت علم حديث کی طرف زيادہ مائل ہے پس جب اما م بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے استاذکا مشورہ قبول کيا اور علم حديث حاصل کرنا شروع کيا تو ديکھنے والوں نے ديکھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تمام ائمہ حديث سے سبقت لے گئے ۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم ،ص ۵۵)
سچ بولے :
طالبُ العلم کو چاہے کہ استاذ کے سامنے بالخصوص اور دیگر مسلمانوں کے سامنے بالعموم سچ ہی بولے ۔ استاذ سے جھوٹ بولنا باعث ِ محرومی ہے جیسا کہ اپنے استاذ کو اپنی طرف سے عبارتیں گھڑ کردھوکا دینے والے طالب علم کے بارے میں دریافت کئے گئے سوال کے جواب میں امام اہل سنت الشاہ مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنِ فرماتے ہیں :
سخن پروری يعنی دانستہ باطل پر اصرار ومکابرہ ايک کبيرہ،کلمات علماء ميں کچھ الفاظ اپنی طرف سے الحاق کر کے ان پر افترا دوسرا کبيرہ،علماء کرام اور خود اپنے اساتذہ کو دھوکہ دینا خصوصاً امر دين ميں تیسرا کبيرہ،يہ سب خصلتيں یہود لَعَنَھُمُ اللہُ تَعَالٰی کی ہيں ۔