لوگوں کو اس جواب سے مزید حیرت ہوئی کیونکہ ان کے علم کے مطابق حضرت ذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِابھی حیات تھے۔بہرحال آپ کے اس جواب کی بناء پر فوراً وقت اور تاریخ نوٹ کرلی گئی۔جب بعد میں معلومات کی گئیں، تو واضح ہوا کہ آپ کے کلام سے تھوڑی دیر قبل ہی حضرت ذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کاانتقال ہوگیا تھا۔(تذکرۃ الاولیاء،ج۱،ص ۲۲۹)
امام شعبی نے روایت کیا کہ حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ُنے ایک جنازے پر نماز پڑھی۔پھر سواری کا خچر لایا گیا،تو حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے آگے بڑھ کر رکاب تھام لی۔یہ دیکھ کر حضرت زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا،''اے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کے چچا کے بیٹے!آپ ہٹ جائیں۔'' اس پر حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا،''علماء واکابرکی اسی طرح عزت کرنی چاہیئے۔''(جامع بیان العلم وفضلہ،صفحہ ۱۱۶)