(۵) اس کے حق کو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کے حق سے مقدم رکھے۔
(۶) اور اگر چہ اس سے ایک ہی حرف پڑھا ہو،اس کے سامنے عاجزی کا اظہارکرے۔
(۷) اگر وہ گھر کے اندر ہو،توباہرسے دروازہ نہ بجائے ،بلکہ خود اس کے باہر آنے کا انتظار کرے۔
(۸) (اسے اپنی جانب سے کسی قسم کی اَذیت نہ پہنچنے دے کہ)جس سے اس کے استاد کو کسی قسم کی اذیت پہنچی،وہ علم کی برکات سے محروم رہے گا۔(فتاویٰ رضویہ۔جلد ۱۰۔صفحہ ۹۶،۹۷)
اپنے اُستاذ کا ادب کرے :
کسی عربی شاعر نے کہا ہے ،
مَاوَصَلَ مِنْ وَصْلٍ اِلاَّ بِالْحُرْمَۃِ وَمَاسَقَطَ مِنْ سَقْطٍ اِلَّا بِتَرْکِ الْحُرْمَۃِ
یعنی جس نے جو کچھ پایا اَدب واحترام کرنے کی وجہ سے پایا اور جس نے جو کچھ کھویا وہ اَدب واحترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا ۔
حضرت سہل بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سےکوئی سوال کیا جاتا، تو آپ پہلو تہی فرمالیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ اچانک دیوار سے پشت لگا کر بیٹھ گئے اور لوگوں سے فرمایا،''آج جو کچھ پوچھنا چاہو،مجھ سے پوچھ لو۔''لوگوں نے عرض کی، ''حضور!آج یہ کیا ماجرا ہے؟آپ تو کسی سوال کا جواب ہی نہیں دیا کرتے تھے؟'' فرمایا،''جب تک میرے اُستاد حضرت ذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حیات تھے،ان کے ادب کی وجہ سے جواب دینے سے گریز کیاکرتا تھا۔''