| کامیاب طالبِ علم کون؟ |
نوجوانوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا ہوگیا اور وہ گناہوں سے تائب ہوکر صلوٰۃ وسنت کی راہ پر گامزن ہوگئے۔ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں مُرید کرتے ہیں،اورقادری سلسلے کی تو کیا بات ہے! کہ حضور غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں،''میں اپنے مریدوں کاقیامت تک کے لئے توبہ پر مرنے کا (بفضلِ خدا عزوجل)ضامن ہوں۔''(بہجۃ الاسرار،ص۱۹۱)
استاذسے تعلقات کیسے ہوں؟
استاذ اور طالبُ العلم کا رشتہ انتہائی مقدس ہوتا ہے۔ لہذا طالبُ العلم کو چاہيے کہ وہ درج ِ ذیل امور پیش ِ نظر رکھے ۔۔۔۔۔۔
استاذ کے حقوق پورے کرے:
اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنِ کتب ِمعتبرہ کے حوالے سے اُستاد کے حقوق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ''عالم کا جاہل پر اور استاد کا شاگرد پر ایک سا حق ہے اور وہ یہ کہ
(۱) اس سے پہلے گفتگو شروع نہ کرے۔
(۲) اس کی جگہ پراس کی غیرموجودگی میں بھی نہ بیٹھے۔
(۳) چلتے وقت اس سے آگے نہ بڑھے۔
(۴) اپنے مال میں سے کسی چیز سے اُستاد کے حق میں بخل سے کام نہ لے یعنی جو کچھ اسے درکار ہو بخوشی حاضرکردے اور اس کے قبول کرلینے میں اس کا احسان اور اپنی سعادت تصور کرے۔