تربيت کی مثال بالکل اس طرح ہے ،کہ جس طرح ايک کسان کھيتی باڑی کے دوران اپنی فصل سے غير ضروری گھاس،جڑی بوٹياں نکال ديتا ہے تاکہ فصل کی ہريالی اور نشونما ميں کمی نہ آئے اسی طرح سالکِ راہِ حق(مريد)کے ليے شيخ(مرشد کامل )کا ہونا نہايت ضروری ہے ۔جو اس کی احسن طریقے سے تربيت کرے اور اللہ تعالی تک پہنچنے کے ليے اس کی راہنمائی کرے ۔رب کريم عزوجل نے انبياء اور رسولوں عَلَیھِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ کو لوگوں کی طرف اس ليے مبعوث فرمايا تاکہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ بتائيں ،مگر جب آخری رسول،نبی مقبول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ اس جہاں سے پردہ فرما گئے اور نبوت و رسالت کا سلسلہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ پر ختم ہوا تو اس منصب جلیل کوخلفائے راشدين رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْھِم اَجْمَعِين نے بطور نائب سنبھال ليا اور لوگوں کو راہ حق پر لانے کی سعی و کوشش فرماتے رہے ۔(ایھا الولد ،ص۲۶۲)