حصولِ علم کے بعد اس پر عمل کرنا بھی بے حد ضروری ہے ۔ محض علم کے حصول ہی کو سب کچھ سمجھ لینا اور عمل کی طرف رغبت نہ کرنا باعثِ ہلاکت ہے ۔ حضرت سیدنا امام محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے کسی عزیز شاگرد کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
اے نورِ نظر!نيک اعمال سے محروم اور باطنی کمالات سے خالی نہ رہنا (یعنی ظاہر وباطن کو اخلاقِ حسنہ سے مزين و آراستہ کرنا )اور اس بات کو يقينی جان کہ (عمل کے بغير) صرف علم ہی بروز حشر تيرے کام نہ آئے گا ۔جیسا کہ ايک شخص جنگل ميں ہو اور اس کے پاس دس تيزاور عمدہ تلواريں اور دیگر ہتھيار ہوں ،ساتھ ہی ساتھ وہ بہادر بھی ہو اور اسے جنگ کرنے کا طريقہ بھی آتا ہو ،ايسے ميں اچانک ايک مہيب اور خوفناک شير اس پر حملہ کر دے !تو تيرا کيا خيال ہے ؟کہ استعمال کے بغير صرف ان ہتھياروں کی موجودگی اسے اس مصیبت سے بچا سکتی ہے ؟يقينا تو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان ہتھياروں کو استعمال ميں لائے بغير اس حملے سے نہيں بچا جا سکتا ۔لہذا اس بات کو اپنی گرہ سے باندھ لو !کہ اگر کسی شخص کو ہزاروں علمی مسائل پر عبور حاصل ہو اور وہ اس کی تعليم بھی ديتا ہو ،ليکن اس کا اپنے علم پر عمل نہ ہو،تو اسے کوئی فائدہ حاصل نہيں ہو گا ۔(ايھا الولد،ص۲۵۸)