| کامیاب طالبِ علم کون؟ |
اس قسم کی باتیں عموماً ابتدائی درجے میں ہوا کرتی ہیں ۔ ایسے بھائیوں کی خدمت میں التجا ہے کہ شیطان کے ہاتھوں میں کھلونا بننے کی بجائے ذرا غور کریں کہ نئی جگہ سے مانوس ہونے کے لئے کچھ نہ کچھ وقت تو لگتا ہی ہے ۔لہذا !بار بار علمِ دین کے فضائل پڑھئے اور ثابت قدمی سے علمِ دین سیکھنے میں مشغول ہوجائيے ،ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ دل بھی لگ ہی جائے گا ۔
کتابوں کی تعظیم کریں
''باادب بانصیب ''کے مقولے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی کتابوں ، قلم، اور کاپیوں کی تعظیم کریں ۔ انہیں اونچی جگہ پر رکھئے ۔ دورانِ مطالعہ ان کا تقدس برقرار رکھئے۔ کتابیں اُوپر تلے رکھنے کی حاجت ہوتو ترتیب کچھ یوں ہونی چاہے ، سب سے اُوپر قرآنِ حکیم ، اس کے نیچے تفاسیر ، پھر کتبِ حدیث ، پھر کتبِ فقہ ، پھر دیگر کتب ِ صرف ونحو وغیرہ ۔ کتاب کے اوپر بلاضرورت کوئی دوسری چیز مثلاً پتھر اور موبائل وغیرہ نہ رکھیں ۔
شيخ امام حلوانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ميں نے علم کے خزانوں کو تعظيم و تکريم کرنے کے سبب حاصل کيا وہ اس طرح کہ ميں نے کبھی بھی بغيروضو کاغذ کو ہاتھ نہيں لگايا۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم ،ص ۵۲(
ایک مرتبہ شيخ شمس الائمہ امام سرخسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا پیٹ خراب ہو گيا۔ آپ کی عادت تھی کہ رات کے وقت کتابوں کی تکرار اور بحث و مباحثہ کيا کرتے تھے ۔ اس رات پيٹ خراب ہونے کی وجہ سے آپ کو17 بار وضو کرنا پڑا کیونکہ آپ بغير وضو تکرار نہيں کيا کرتے تھے۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم،ص۵۲)