Brailvi Books

کامیاب طالبِ علم کون؟
48 - 68
کُتّااورسینگوں والی دلہن ''نامی رسائل کا مطالعہ فرمائیں ۔
 (3) مالی پریشانی:
    بعض اوقات طلبہ اس لئے بھی علومِ دینیہ کی تکمیل نہیں کر پاتے کہ ان کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے ۔ 

اس کا حل :

    تنگ دست طالبُ العلم یقینا بڑی آزمائش میں مبتلاء ہوتا ہے ، خصوصاً اس وقت کہ جب گھر والوں کی طرف سے کوئی مالی تعاون نہ ہو۔مگر ایسے طالب العلم کو چاہے کہ کہیں اس نے خوامخواہ اپنی ضروریات نہ بڑھا رکھی ہوں کیونکہ اکثر بنیادی ضروریات مثلاً اقامت ، طعام اور علاج معالجہ وغیرھا ،تو جامعہ کی انتظامیہ کی طرف سے پوری کی جاتیں ہیں ۔ بہرحال ایسے طالبُ العلم کو چاہيے کہ کسی سے سوال کرنے کی بجائے ناظم صاحب یا اپنے استاذ صاحب کو اس پریشانی سے آگاہ کردے ،امیدِ واثق ہے کہ وہ اس کی پریشانی کے حل کی کوئی ترکیب بنادیں گے ۔بصورتِ دیگر وہ عارضی طور پر کوئی جز وقتی روزگار تلاش کرے ، مثلاً کتابوں کی جلدبنانا وغیرہ 

    فقہ حنفی کے عظیم پیشوا اِمام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ہونہار شاگرد امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جب امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی شاگردی اختیار کی تو آپ نہ صرف شادی شدہ تھے بلکہ مالی طور پر بھی زبوں حالی کا شکار تھے۔ لیکن آپ نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل علم حاصل کرتے رہے اور آخرِ کار فقہ حنفی کے امام کہلائے ۔
 (4) گھر والوں کی طرف سے رُکاوٹ :
            بعض طلبہ اس لئے مدرسہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کہ ہمیں گھر
Flag Counter