صدرُ الشَّریعہ بدرُ الطَّریقہ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں،''راستے اور بازار میں کھانا مکروہ ہے۔ '' ( بہارِشریعت حصہ ۱۶ ص ۱۹)
بازار کی روٹی
حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہانُ الدین ابراھیم زَرْ نُوجی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں، امامِ جلیل حضرتِ سیِّدُنا محمد بن فَضل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دَورانِ تعلیم کبھی بھی بازار سے کھانا نہیں کھایا ان کے والِد صاحِب ہر جُمُعہ کو اپنے گاؤں سے ان کیلئے کھانا لے آتے تھے ۔ ایک مرتبہ جب وہ کھانادینے آئے تو ان کے کمرے میں بازار کی روٹی رکھی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بیٹے سے بات تک نہیں کی۔ صاحِبزادے نے معذرت کرتے ہوئے عرض کی،ابّا جان! یہ روٹی بازار سے میں نہیں لایا میر ارفیق میری رِضا مندی کے بِغیر خرید کر لایا تھا ۔ والِد صاحِب نے یہ سُن کر ڈانٹتے ہوئے فرمایا، اگر تمہارے اندر تقویٰ ہوتا تو تمہارے دوست کو کبھی بھی یہ جُرأَت نہ ہوتی۔(تعلیم المتعلّمِ طریق التعلّم، ص۶۷ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
مسلسل بیمار رہنے والے اسلامی بھائی طبی علاج کے ساتھ ساتھ روحانی علاج بھی کروائیں ۔ اس کے لئے اپنے شہر میں مجلس مکتوبات وتعویذاتِ عطاریہ کے بستے(اسٹال) سے تعویذ اور وظائف وغیرہ حاصل کریں ،ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا فائدہ وہ کھلی آنکھوں سے ملاحظہ کریں گے ۔ امیرِ اہل ِ سنت بانی دعوتِ اسلامی مدظلہ العالی کے عطا کردہ تعویذاتِ عطاریہ کی برکات جاننے کے لئے ''خوفنا ک بلا، پُر اَسرار