ایسے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ کسی اچھے حکیم یا ڈاکٹر سے اپنا علاج کروائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی غور کریں کہ نفس کی لذت کی خاطر کہیں وہ مسلسل بدپرہیزی کے مرتکب تو نہیں ہورہے ،ظاہر ہے کہ جو آدمی گول گپے ، دہی بڑے،مصالحے دار بریانی،پیزہ اورطرح طرح کی کھٹی میٹھی چیزیں کھانے کا عادی ہوگا اسے بیماریاں نہیں گھیریں گی تو اور کیا ہوگا؟(اس سلسلے میں تفصیلی راہنمائی کے لئے بانی دعوتِ اسلامی مدظلہ العالی کی مایہ ناز تحریر ''پیٹ کا قفلِ مدینہ '' پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔)
نیز بازار جاکر کھانا کوئی اچھی بات نہیں ، جیسا کہ بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی اپنی کتاب ''آدابِ طعام'' میں نقل فرماتے ہیں :
''حضرتِ سَیِّدُنا ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ نبیِّ کریم، رسولِ عظیم، رء ُوفٌ رَّحیم علیہِ افضلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسلیم نے اِرشاد فرمایا،''بازار میں کھانا