یعنی جو کسی چيز کی طلب ميں محنت وکوشش کرتا رہا وہ اسے ايک دن ضرور پالے گا اور جو کسی دروازے کو کھٹکھٹائے اور مسلسل کھٹکھٹاتا ہی چلا جائے تو ايک دن وہ اس کے اندر ضرور داخل ہو گا۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم،ص۴۵)
عموماً دیکھا گیا ہے کہ حصول ِعلمِ دین کے لئے آنے والے طلبہ کی بہت بڑی تعداداستقامت سے محروم رہتی ہے اوراکثر طلبہ اپنی تعلیم (خصوصاً ابتدائی درجات میں) اَدھوری چھوڑ کراپنے علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور دیگر کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں ، جس کے نتیجے میں پہلے درجہ میں داخل ہونے والوں کی بہت کم تعداد آخری درجہ یعنی دورہ حدیث میں پہنچ پاتی ہے ۔
ایسے طلبہ کو غور کرنا چاہے کہ ایک ایسا کام جو ہمارے لئے عظیم ثواب کا سبب بن سکتا ہو اوراس میں اُخروی کامیابی کا راز پوشیدہ ہو،اور سب سے بڑھ کر جس کے ذریعے رب تعالیٰ اور اس کے حبیب، بیمار دلوں کے طبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کی رضا حاصل ہو سکتی ہو تو اس کام کو چھوڑ دیناکس قدر نقصان دہ ہے ۔ طلبہ اسلامی بھائیوں کو عدمِ استقامت سے دوچار کرنے والی چند وجوہات اور ان کا حل سطورِ ذیل میں ملاحظہ کیجئے ،