| کامیاب طالبِ علم کون؟ |
اس کے برعکس اگر طالبُ العلم اپنے وقت کو اِدھراُدھر کے کاموں میں ضائع کرنے کی عادت بنا لے تو قوی امکان ہے کہ وہ علم کی برکتوں سے محروم رہ جائے ۔ رسولِ مقبول ، حضرتِ آمنہ کے پھول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے :
عَلَامَۃُ اِعْرَاضِ اللہِ تَعَالٰی عَنِ الْعَبْدِ اِشْتِغَالُہٗ بِمَا لَايعنِيہِ ،وَاِنَّ اِمْرَاًئ ذَھَبَتْ سَاعَۃٌ مِنْ عُمُرِہٖ فِیْ غَيرِ مَا خُلِقَ لَہٗ لَجَدِيرٌ أَنْ تَطُوْلَ عَلَيْہِ حَسْرَتُہٗ وَمَنْ جَاوَزَ الْاَرْبَعِيْنَ وَلَمْ يغْلِبْ عَلَيہِ خَيرُہٗ شَرَّہٗ فَلْيتَجَھَّزْ اِلَی النَّارِ
يعنی: بندے کا غير مفيد کاموں ميں مشغول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے اپنی نظر عنايت پھيرلی ہے۔اور جس مقصد کے ليے انسان کو پيدا کيا گيا ہے ،اگر اس کی زندگی کا ايک لمحہ بھی اس کے علاوہ گزر گيا تو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس پر عرصہ حسرت دراز کر ديا جائے ۔اور جس کی عمر چاليس سال سے زيادہ ہو جائے اور اس کے باوجود اُس کی برائيوں پر اس کی اچھائياں غالب نہ ہوں ،تو اسے جہنم کی آگ ميں جانے کے ليے تيار رہنا چاہيے۔
(الفردوس بماثور الخطاب ،باب الميم، الحديث ۵۵۴۴ ، ج ۳، ص۴۹۸)
ہمارے اسلاف رَحِمَھُمُ اللہُ اپنے وقت کو کس طرح استعمال کیا کرتے تھے اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو :
حضرت داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ روٹی پانی میں بھگو کر کھا لیتے تھے،اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے،''جتنا وقت لقمے بنانے میں صرف ہوتا ہے،اتنی دیر میں قرآن کریم کی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہوں۔''(تذکرۃ الاولیاء،صفحہ ۲۰۱)