رکھتے ہوئے سوال کرے ، سوال پوچھنے کے چند آداب یہ ہیں ،
(۱) استاذ کے درسی بیان کے دوران سوال نہ کرے ، ہوسکتا ہے کہ اس کی بات کا جواب آگے آرہاہو ۔
(۲) سوال سبق سے ہٹ کر نہ ہو نیز ہوسکتا ہے کہ اس کا جواب حاشيے میں موجود ہو ۔
(۳) وہ سوال دیگر طلبہ کی ذہنی سطح کے مطابق ہو بصورتِ دیگر تعلیمی اوقات کے بعد استاذ سے دریافت کر لے ۔
(۴) وہ سوال استاذ کا امتحان لینے کے لئے قطعاًنہ ہو اور نہ ہی کثرتِ مطالعہ کی دھاک بٹھانا مقصود ہو ۔
اگر استاذ صاحب عربی عبارت پڑھنے کی عام پیش کش کریں تو مکمل خود اعتمادی کے ساتھ اپنے آپ کو پیش کرے ۔
اگر استاذ صاحب کو ئی سوال کریں تو جواب معلوم ہونے کی صورت میں بلاجھجھک اپنا ہاتھ بلند کردے ، لیکن اگر استاذ صاحب کسی اور کو جواب دینے کے لئے کہہ دیں تو یہ برا بھی نہ مانے ۔
اگر استاذ صاحب کو مخاطب کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو باادب لہجے میں مخاطب کرے ۔
دورانِ سبق اپنے ذاتی مسائل مثلاً بیماری ،تنگ دستی وغیرہ کا رونا رو کر بقیہ طلبہ کو پڑھائی سے محروم نہ کرے بلکہ تدریسی اوقات کے علاوہ استاذ صاحب سے ملاقات کر لے ۔
نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر کسی بھی مضمون سے اکتاہٹ کا اظہار