سامنا کرنا پڑے گا ۔ لہذا ! طلبہ کو چاہے کہ (بالخصوص ابتدائی درجات میں)ہرگز ہرگز اُردوشرح کے محتاج نہ بنیں بلکہ اپنے اندر عربی عبارت سے سبق سمجھنے کی استطاعت پیدا کریں ، ہاں بعض اساتذہ کا یہ کہنا ہے کہ اگروسطانی درجات میں تمام تر عربی سبق سمجھنے کے بعد محض زیادتی فہم کے لئے کسی معیاری اردو شرح کا مطالعہ کرلیا جائے تو نقصان دہ نہیں ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
طالبُ العلم کو چاہيے کہ اپنا مطالعہ حتی الامکان اس وقت تک جاری رکھے جب تک مکمل سبق سمجھ میں نہ آجائے ۔ اگر تمام تر کوشش کے باوجود سبق کا کوئی حصہ حل نہ ہوپائے تو رب تعالیٰ سے اس کے حل کے لئے دعا کرے ۔پھراگرسبق سمجھ میں آجائے تو فبھا وگرنہ درجہ میں استاذ محترم تو سمجھا ہی دیں گے ۔