جو طالبُ العلم عربی عبارت پر اعراب جاری کرنے اوراس کا بامحاورہ ترجمہ کرنے پر قادر ہو اس کے لئے تھوڑے سے غور وفکر کے بعد سبق کا مفہوم سمجھناچنداں مشکل نہیں کیونکہ ایسا طالبُ العلم اس سبق پر دئيے گئے عربی حاشيئے کا بھی بلاتکلف مطالعہ کرلے گا اور ضرورت محسوس ہونے پر اس کی عربی شرح بھی دیکھنے سے گریز نہیں کریگا ۔ مذکورہ دونوں امور میں مہارت حاصل کئے بغیر کامل طور پر مفہوم کو سمجھنے کی خواہش خوابوں ہی میں پوری ہوسکتی ہے ۔لہذا! جوطالبُ العلم سبق کو احسن انداز میں سمجھنا چاہتا ہو اسے چاہيے کہ وہ ماقبل دئيے گئے طریقے پر عمل کرکے اپنی عبارت اور ترجمہ مضبوط کر لے ۔
عام مشاہدہ ہے کہ عبارت اور ترجمے میں کمزوررہ جانے والے طلبہ اپنی کمزوری دور کرنے کی مخلصانہ کوشش کرنے کی بجائے سستی کا شکار ہو کرناقص قسم کی اردو شروحات کی مدد سے سبق کو تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس سے وقتی فائدہ تو شاید حاصل ہوجائے لیکن ان کی عربی عبارت کو سمجھنے کی رہی سہی صلاحیت بھی دم توڑ جاتی ہے ۔ پھر بعضوں کو تو اردوشروحات کا ایسا ''نشہ''لگ جاتا ہے کہ وہ فارغ التحصیل ہونے تک اس پر ''استقامت پزیر ''رہتے ہیں ۔ ایسے طلبہ اسلامی بھائیوں کو غور کرنا چاہيے کہ جب وہ مسندِ تدریس پر متمکن ہوں گے تو انہیں سبق کی عربی عبارت بھی حل کروانی ہوگی ، نیز سمجھایا جانے والا سبق بھی عبارت پر منطبق کروانا ہوگا اور طلبہ کی طرف سے کئے جانے والے سوالات کے جوابات بھی دینا ہوں گے ۔ اور اگر طلبہ آپ سے کوئی ایسا سوال کرنے کی'' جسارت'' کربیٹھے جس کا جواب اردو شرح میں نہ ہواتوکتنی شرمندگی کا