Brailvi Books

کامیاب طالبِ علم کون؟
30 - 68
''مضاف'' تصور کر کے ترجمہ کریں گے جیسے
ضَرَبْتُ زَیْدًا رَأْسَہٗ
(میں نے زید کے سر کو مارا ۔) اور
سُلِبَ زَیْدٌ ثَوْبُہٗ
(زید کا کپڑا چھینا گیا ۔) اوراگر بدل ِغلط ہو تو مبدل منہ اور بدل کے درمیان ''بلکہ'' کا لفظ آئے گا جیسے
صَلَّیْتُ الظُّہْرَ الْعَصْرَ
(میں نے ظہر ۔۔۔۔۔۔بلکہ عصر کی نماز پڑھی۔) 

    (۱۴) عربی میں پہلے موصوف پھر اس کی صفت درج ہوتی ہے جبکہ ترجمہ کرتے وقت پہلے صفت پھر موصوف کا بیان ہوتا ہے ۔اگر صفت حقیقی ہو تو اس کا ترجمہ اس طرح ہوگا جیسے
جَاءَ نِیْ الرَّجُلُ الطَّوِیْلُ
یعنی میرے پاس ایک لمبا مرد آیا ۔ اگر صفت سببی ہو تو اس کا ترجمہ موصول صلہ کے انداز میں ہوگا مثلاً
جَاءَ نِیْ رَجُلٌ عَالِمٌ اَبُوْہُ
(میرے پاس وہ مرد آیا جس کا باپ عالم ہے ۔)

    (۱۵) مؤکد تاکید کے ترجمے میں ''بے شک '' کا لفظ استعمال کیا جائے گا جیسے
زَیْدٌ زَیْدٌ قَائِمٌ
 (بے شک زید ہی کھڑا ہے ۔)

    (۱۶) معطوف علیہ معطوف کو ملاکر ترجمہ مکمل کیا جائے گا جیسے
جَاءَ زَیْدٌ وَعَمْرٌو
 (زید اور عمرو آئے ۔)

    (۱۸) عطف ِ بیان آنے کی صورت میں مبین اور عطف ِ بیان کے درمیان لفظ ''یعنی'' لایا جائے گا ۔جیسے
اَقْسَمَ بِاللہِ اَبُوْحَفْصٍ عُمَرُ
(ابوحفص یعنی عمر(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)نے قسم اٹھائی ۔)

    (۱۹) عربی اسباق میں وَاعْلَمْ کا لفظ اکثر مقامات پر آتا ہے اس کا ترجمہ یوں کیا جاسکتا ہے (جان لو ، جان لیجئے ، یاد رکھئے )
Flag Counter