(سردی جُبّوں کے ساتھ آئی ۔)
(۹) مفعولِ لہ کے ترجمے میں عموماً'' کے لئے ، کی وجہ سے ، کی خاطر ، کے سبب '' جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں مثلاً ضَرَبْتُہ، تَادِیْباً کا ترجمہ یوں ہوگا ،میں نے اسے ادب سکھانے کے لئے مارا ،یا، میں نے اسے ادب سکھانے کی خاطر مارا ۔
(۱۰) حال کا ترجمہ کرتے وقت عموماً'' حالانکہ ، جبکہ ، اس حال میں، کی حالت میں ' ' کے لفظ استعمال ہوتے ہیں مثلاًجَاءَ نِیْ زَیْدٌ رَاکِباً
کا ترجمہ زید میرے پاس سوار ی کی حالت میں آیا ۔ اور لَقِیْتُ زَیْدًا رَاکِبَیْنَ یعنی میں زید سے اس حال میں ملاکہ ہم دونوں سوار تھے ۔
أَضَرَبْتَہٗ وَھُوَ مَرِیْضٌ
ترجمہ : کیاتم نے اسے مارا حالانکہ وہ بیمار ہے ..یا.. کیا تم نے اسے بیماری کی حالت میں مارا ۔
(۱۱) تمییز کا ترجمہ کرتے وقت عموماً ''بطورِ، کے طور پر، ازروئے ،ہونے کے اعتبار سے ، باعتبارِ'' کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ۔ مثلاً طَابَ زَیْدٌ اباً کا ترجمہ یوں ہوگا،۔۔۔۔۔۔ زید بطورِ باپ اچھا ہے ، زید باپ کے طور پر اچھا ہے ، زید باپ ہونے کے اعتبار سے اچھا ہے ، زید باعتبار ِ باپ اچھا ہے ۔
(۱۲) قد جب ماضی پر داخل ہوتو اس کا معنی ''تحقیق '' کریں گے جیسےقَدْ ضَرَبَ زَیْدٌ ،
تحقیق زید نے مارا ۔اور جب مضارع پر داخل ہو تو اس کا معنی ''کبھی '' کریں گے جیسے
قَدْ یَکُوْنُ فِیْ مَعْنَی النَّفْیِ ،
کبھی وہ یعنی ما نفی کے معنی میں ہوتا ہے ۔
(۱۳) مبدل منہ اور بدل کا ترجمہ کرتے وقت غور کریں کہ اگر بدل کل ہو تو پہلے بدل کا پھر مبدل منہ کا ترجمہ کریں گے جیسےجَاءَ نِیْ زَیْدٌ اَخُوْکَ
(میرے پاس تیرا بھائی زیدآیا ۔)'' اور اگر بدلِ بعض یا اشتمال ہو تو مبدل منہ کو ''مضاف الیہ ''اور بدل کو