(تین درخت )، مِائَۃُ عَامِلٍ (سو عوامل )
(۴) غائب کی ضمیر کا ترجمہ کرتے وقت مرجع بولنے سے ترجمے میں مزید نکھار آجاتا ہے ، جیسے
فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ
(وہ یعنی اللہ جسے چاہے بخش دے ۔)
(۵) موصول صلہ کا ترجمہ کرتے وقت پہلے موصول بولیں پھر فعل اور اس کے بعد لفظ ِ''جس یا جو '' سے ملا کر صلہ کا ترجمہ کریں جیسے
جَاءَ نِی الَّذِیْ ھُوَ ضَرَبَکَ
(میرے پاس وہ شخص آیا جس نے تجھے مارا۔)
(۶) جار مجرور کا ترجمہ کرتے وقت پہلے مجرور ' پھر حرفِ جر کا ترجمہ کریں اور یہ ضرور دیکھ لیں کہ مذکورہ حرفِ جر یہاں کس معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے
خَتَمَ اللہ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ
( اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ۔) اور
(میں نے قلم کی مدد سے لکھا ) یہاں ب استعانت کے معنی میں استعمال ہوئی ہے ۔
(۷) مفعولِ مطلق کا ترجمہ کرتے وقت اس کی اقسام کو ضرور پیش ِ نظر رکھاجائے جیسے
میں قِیَامًا مفعولِ مطلق تاکیدی ہے اور اس کا ترجمہ یوں ہوگا(زید حقیقۃً کھڑا ہوا )،
جَلَسْتُ جِلْسَۃَ الْقَارِیْ میں جِلْسَۃَ الْقَارِیْ
مفعولِ مطلق نوعی ہے اور اس کا ترجمہ یوں ہوگا ، (میں قاری کے انداز میں بیٹھا۔) ضَرَبْتُہ، ضَرْبَۃً میں ضَرْبَۃً مفعولِ مطلق عددی ہے اور اس کا ترجمہ یوں ہوگا ،(میں نے اسے ایک مرتبہ مارا ۔)''
(۸) مفعولِ معہ کا ترجمہ فعل کے معمول (فاعل یا مفعول ) سے ملا کر کیا جائے