Brailvi Books

کامیاب طالبِ علم کون؟
27 - 68
لغت دیکھ لی جائے ۔

مدینہ:اس طریقے کی عملی مشق کے سلسلے میں راہنمائی کے لئے اپنے اساتذہ سے رجوع کریں۔

    جب طالبُ العلم عبارت کے ہر ہر لفظ کی ترکیبی حیثیت اور معنی کے بارے میں شرح ِصدر حاصل کرچکے تو اب پہلے جملے کا ترجمہ کرے ۔ عربی زبان میں عموماً پہلے فعل ہوتا ہے پھر فاعل اور اس کے بعد مفعول ہوتا ہے ۔ جب کہ اردو زبان میں پہلے فاعل پھر مفعول اور اس کے بعد فعل ہوتا ہے ۔ لہذا عربی زبان میں بیان کردہ بات کو اُردو زبان میں منتقل کرنے کے لئے لفظی ترجمے پر مہارت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ اردوزبان کے اسلوب کا بھی خیال رکھنا ہوگا جس کے نتیجے میں آپ کا کیا ہوا ترجمہ خود بخود بامحاورہ بن جائے گا ۔ مثلاً ضَرَبَ زَیْدٌ بَکْراً کا لفظی ترجمہ ہے ''مارا زید نے بکر کو۔'' ، لیکن یہ ترجمہ اردوزبان کے محاورے سے میل نہیں کھاتا لہذا بامحاورہ ترجمہ یوں ہوگا ،'' زید نے بکر کو مارا ۔وعلی ھذا القیاس 

مختلف الفاظ کے ترجمے کا انداز : 

     (۱) مضاف اور مضاف الیہ کا ترجمہ کرتے وقت پہلے مضاف الیہ کا ترجمہ کریں پھر مضاف کا اور ان کے درمیان ''کا، کی ، کے ،میرا ،میری ، میرے ، تمہارا ،تمہاری، تمہارے ''جیسے الفاظ کے ذریعے ربط ملائیں ۔ مثلا غُلَامُ زَیْدٍ (زید کا غلام)، غُلَامِیْ (میرا غلام)، غُلَامُکَ (تمہارا غلام )وغیرہم

    (۲) بعض اوقات مضاف مضاف الیہ کے ترجمہ میں ''کا، کی ، کے وغیرہ'' نہیں آئے گا مثلاًذُوْ مَالٍ (مال والے )، اَصْحَابُ الْجَنَّۃِ(جنت والے) 

    (۳) بعض اوقات ترجمہ مضاف ہی سے شروع ہوگا ،(i)جب لفظ کل کسی اسم