| کامیاب طالبِ علم کون؟ |
جاری کرنا مقصود ہو تو ضَرَبَ کے مبنی ہونے کی وجہ سے اسے مبنی برفتح ضَرَبَ ہی پڑھا جائے گا جبکہ زَیْد معرب ہے لہذا! اس کے عامل پر غور کیا گیا تو اس پر ضَرَبَ عاملِ لفظی داخل ہے اور یہ زَیْد کو رفع دے رہا ہے چنانچہ اس کے تقاضے کے مطابق زَیْد کو حالتِ رفعی میں پڑھا جائے گا اور زَیْد کی حالت رفعی ضمہ کے ساتھ آتی ہے پس اسے زَیْدٌ پڑھا جائے گا ۔
مذکورہ اَنداز میں مشق کرنے کی صورت میں کچھ ہی عرصہ میں آپ ہر قسم کی عربی عبارت پر اعراب جاری کرنے میں مہارت حاصل کرلیں گے ۔ ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ (ان امور کی تفصیل کے لئے معیاری کتب ِ نحویہ کا مطالعہ فرمائیں۔ )(۲) ترجمے میں مہارت کس طرح حاصل کریں ؟
بہترین ترجمے کے لئے بنیادی طور پر دو باتوں کا جاننا بے حد ضروری ہے ،
(۱) ایک لفظ کا دوسرے لفظ سے ترکیبی تعلق ،
(۲) مشکل لفظ کے مرادی معنٰی کی تعیین ۔۔۔۔۔۔
ایک لفظ کا دوسرے لفظ سے ترکیبی تعلق جوڑنا اس لئے ضروری ہے کہ جب تک اس لفظ کی حیثیت ہی متعین نہیں ہوگی کہ یہ لفظ فاعل بن رہا ہے یا مفعول ؟ تمییز بن رہا ہے یا حال ؟(علی ھذا القیاس )تو اس کا ترجمہ کس طرح ممکن ہے ۔ الفاظ کو ترکیبی طور پر آپس میں جوڑنے کا طریقہ لفظ پر اعراب جاری کرنے کے طریقے کے ضمن میں بیان کیاجاچکا ہے جبکہ مشکل لفظ کا مرادی معنٰی متعین کرنے کے لئے لغت (ڈکشنری )کی مدد لینا ناگزیرہے ۔ عام مشاہدہ ہے کہ بالخصوص ابتدائی درجات کے طلبہ لغت کے استعمال