| کامیاب طالبِ علم کون؟ |
جائیں اور اس کے مفہوم پر غور کرتے جائیں ۔ جب ایک اردو سبق کا مطالعہ مکمل ہوجائے تو دوسرے اردو سبق کی طرف بڑھ جائیں ۔
عربی سبق کی تیاری کا طریقہ:
کسی بھی مضمون سے تعلق رکھنے والے عربی سبق میں طلبہ کو کم از کم تین چیزیں حاصل ہونا بے حد ضروری ہیں ۔
پہلی: عبارت کے ہر ہر لفظ پر درست اعراب جاری کرنے کی صلاحیت ،
دوسری: اس عبارت کا بامحاورہ ترجمہ کرنے کی قدرت ،۔۔۔۔۔۔اور
تیسری : اس عبارت کے مفہوم پر آگاہ ہونا۔
سطورِ ذیل میں ان تینوں صلاحیتوں کے حصول کا طریقہ ملاحظہ فرمائیں،(۱) الفاظ پر اعراب کیسے جاری کریں ؟
یاد رکھئے کہ اعراب کی تبدیلی کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے لفظ کی بنیادی طور پر دوقسمیں ہیں ،(۱) مبنی اور (۲) معرب ۔ مبنی کا تلفظ ہر مقام پر ایک جیسا ہوگا جبکہ معرب پر اعراب جاری کرنے کے لئے سب سے پہلے اس کے عامل پر غور کرنا پڑے گا ۔وہ عامل یاتو معنوی ہوگا یا لفظی ، اگر عامل معنوی ہو تو اس لفظ کو حالتِ رفعی میں پڑھا جائے گا اور اگر عامل لفظی ہو تو دیکھا جائے گا کہ یہ اپنے مدخول کو رفع دے رہا ہے ..یا.. نصب ..یا.. پھر جَر،توجو اس عامل کا تقاضاہو 'اس کے مطابق اس لفظ کو حالتِ رفعی یا نصبی یا جری میں پڑھا جائے گا ۔ اب رہایہ سوال کہ اس لفظ کی تینوں حالتوں(یعنی رفعی ،نصبی اور جری) کا تلفظ کیا ہوگا ؟تو اس کے لئے اسم متمکن (یعنی اسمِ معرب) کی اعرابی حالتوں کا ذہن نشین ہونا ضروری ہے ۔ مثلاً ہمیں ضَرَبَ زَیْدٌ پر اعراب