Brailvi Books

کامیاب طالبِ علم کون؟
13 - 68
    پیارے اسلامی بھائیو! جس طرح ہر قیمتی شے چوروں کے لئے کشش رکھتی ہے اسی طرح ہر اس شے پر شیطان کی خصوصی توجہ ہوتی ہے جو اِبن ِ آدم کے لئے اُخروی لحاظ سے قیمتی ہو ۔ یہی وجہ کہ راہِ علم پر چلنے والے مسلمان، نفس وشیطان کی'' نظرِ عنایت '' کا مرکز ہوتے ہیں ۔ راہِ علم کے مسافر( یعنی طالب العلم)شیطان پر کس قدر بھاری ہیں، اس کا اندازہ ان روایات سے لگائيے،

    حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :'' اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!ایک عالم شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے ،کیونکہ عابداپنے لئے کرتا ہے اور عالم دوسرے کیلئے کرتا ہے ۔''
 (کنزالعمال ، کتاب العلم ،الحدیث ۲۸۹۰۴، ج۱۰، ص۷۶)
     حضرت سیدنا واثلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرورِعالم ،نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :''اس عالم سے بڑھ کر شیطان کی کمرتوڑ کر رکھ دینے والی کوئی شے نہیں ہے جو اپنے قبیلہ میں ظاہر ہو ۔''
 (کنزالعمال ، کتاب العلم ،الحدیث ۲۸۷۵۱، ج۱۰،۶۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        شیطان ہر سمت سے طالبُالعلم پر مسلسل حملہ آور ہوتا رہتا ہے اور اسے اُخروی سعادت سے محروم کروادینے کواپنی کامیابی تصور کرتا ہے ۔ اس سلسلے میں شیطان کی سب سے پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کوئی اس راہِ عظیم کا مسافر نہ بن پائے اور اگر کوئی بننے میں کامیاب ہوبھی جائے تو یہ اس طالبُ العلم کوخرابیئ نیت، مایوسی ، عجب ، تکبر ، سستی اور حرص ِ مال جیسی ہلاکتوں میں مبتلا کرکے اسے علمِ دین کے ثمرات سے محروم کروانے کی
Flag Counter