میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا معمول تھا کہ ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ معلّمِ اعظمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہوکر علمِ دین بھی حاصل کیا کرتے تھے۔مگر مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 60سے 70 صحابہ کرام ایسے تھے جو سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کے درِاقدس پر پڑے رہتے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کی صحبت میں رہ کر علمِ دین سیکھا کرتے اور راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں سفر کرکے کافروں کو دعوتِ اسلام پیش کرتے جبکہ مسلمانوں کوشرعی اَحکامات سکھایا کرتے تھے ۔ ان کی رہائش ایک چھنے ہوئے چبوترے میں تھی جسے عربی میں صُفَّہ کہتے ہیں لہذا !ان نفوسِ قدسیہ کو اصحاب ِ صُفّہ کہا جاتا تھا ۔ سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی ان خوش نصیبوں میں شامل تھے۔رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَان کے اخراجات کے کفیل تھے ۔