Brailvi Books

کامیاب طالبِ علم کون؟
14 - 68
بھرپور کوشش کرتا ہے ۔لہذا! وہ خوش نصیب اسلامی بھائی اور بہنیں جو علمِ دین سیکھ رہے ہیں یا سیکھنا چاہتے ہیں ،انہیں چاہے کہ آنے والی سطور کابغور مطالعہ فرمائیں تاکہ وہ علمِ دین کی زیادہ سے زیادہ برکتیں سمیٹنے میں کامیاب ہوسکیں۔
حصولِ علم کا مقصد کیا ہونا چاہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

    علمِ دین حاصل کرنا یقینا بہت بڑی سعادت ہے لیکن یہ علم اسی وقت نافع ثابت ہوگا جب طالبُالعلم اسے رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے لئے حاصل کرے ۔اس کے برعکس اگر وہ دنیا کی دولت کمانے ، عزت وشہرت حاصل کرنے ، جاہلوں پر رعب جمانے یا علماء سے جھگڑنے کے لئے علم حاصل کریگا تو طویل اور تھکا دینے والی مشقت میں مبتلاء ہونے کے بعد بھی اس کا دامن خالی کا خالی رہ جائے گا ۔جیسا کہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :''جو شخص رضائے الہی کو حاصل کرنے والا علم، دنیاکا سازوسامان حاصل کرنے کی نیت سے سیکھتا ہے،تووہ جنت کی خوشبوبھی نہیں پاسکتا۔'' (ابوداؤد۔کتاب العلم، الحدیث ۳۶۶۴، ج۳، ص۴۵۱)

    ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ''جس نے علم کو اس لئے سیکھا کہ اس کے ذریعے علماء سے فخرومباہات کریگا ..یا.. جاہلوں سے جھگڑا کریگا.. یا.. لوگوں کی توجہ حاصل کریگا تواسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے ۔''
 (کنزالعمال، کتاب العلم، الحدیث،۲۹۰۵۳،ج۱۰،ص۸۷)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا کہ 

    '' بے شک قِیامت کے دن لوگوں میں سے جس کے خلاف سب سے پہلے فیصلہ
Flag Counter