Brailvi Books

کفن چوروں کے انکشافات
27 - 31
وتروں میں بجائے دعائے قُنُوت کے رَبِّ اغْفِرْلِیْ کہنا کافی ہے ۔ طُلُوعِ آفتاب کے بیس مِنَٹ بعد اور غُرُوبِ آفتاب سے بیس مِنَٹ قبل نَماز ادا کر سکتا ہے ۔ اس سے پہلے یا اس سے بعد ناجائز ہے۔ ہر ایساشخص جس کے ذمّہ نَمازیں باقی ہیں چُھپ کر پڑھے کہ گناہ کا اِعلان جائز نہیں۔ (یعنی یہ ظاہر کرنا گناہ ہے کہ مجھ پر قضا نَمازیں ہیں یا میں قضا نمازیں پڑھ رہاہوں و غیرہ)

    اسی سلسلہ میں (سیِّدی اعلیٰ حضرت نے مزید)ارشاد فرمایا: اگر کسی شخص کے ذمّہ تیس یا چالیس سال کی نَمازیں ہیں واجِبُ الَادا ، اس نے اپنے ان ضَروری کاموں کے علاوہ جن کے بِغیر گز ر نہیں کاروبار ترک کر کے پڑھنا شروع کیا اور پکا ارادہ کر لیا کہ کُل نَمازیں ادا کر کے(ہی) آرام لوں گا اور فرض کیجئے اسی حالت میں ایک مہینہ یا ایک دن ہی کے بعد اس کا اِنتقِال ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی رَحمت کامِلہ سے اس کی سب نَمازیں ادا کر دے گا۔ قالَ اللہ تعالیٰ: (یعنی اللہ