Brailvi Books

کفن چوروں کے انکشافات
26 - 31
وہ سب بقَدَرِ طاقت رفتہ رفتہ جلد ادا کرلے ، کاہِلی نہ کرے ۔ جب تک فرض ذمّہ پر باقی رہتا ہے کوئی نَفل قبول نہیں کیا جاتا۔ نیّت ان نَمازوں کی اِس طرح ہو مَثَلاً سو بار کی فجر قضا ہے تو ہر بار یوں کہے کہ'' سب سے پہلے جو فجر مجھ سے قضاء ہوئی ''ہردفعہ یہی کہے۔ یعنی جب ایک ادا ہوئی تو باقیوں میں جو سب سے پہلی ہے۔ اسی طرح ظہر وغیرہ ہر نَماز میں نیت کرے۔ جس پر بَہُت سی نَمازیں قضا ہوں اس کے لئے صورتِ تَخفیف(یعنی کمی کی صورت) اور جلد ادا ہونے کی یہ ہے کہ خالی رَکعتوں(یعنی ظہر ، عصر و عشاء کی آخری دو اور مغرب کے فرض کی تیسری رکعت )میں بجائے الحمد شریف کے تین بار سبحٰنَ اللہ کہے، اگر ایک بار بھی کہہ لے گا تو فرض ادا ہو جائے گا نیز تسبیحات رکوع و سجود میں صرف ایک ایک بار
سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظیم
اور
سبحٰن رَبِّی الْاَعلٰی
پڑھ لینا کافی ہے ۔ تَشَہُّد(تَ۔شَہ۔ہُد) کے بعد دونوں دُرود شریف کے بجائے
اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ
سَیِّدِنَا مُحمَّدٍ وَّاٰلِہٖ۔
Flag Counter