Brailvi Books

کفن چوروں کے انکشافات
25 - 31
مکروہات نے ایسا گھیرا ہے کہ روز ارادہ کرتا ہوں آج قضا نَمازیں ادا کرنا شروع کردوں گا مگر نہیں ہوتا !کیا یوں ادا کروں کہ پہلے تمام نَمازیں فجر کی ادا کر لوں پھر ظہر کی۔ پھر اور اوقات کی ، تو کوئی حرج ہے ؟مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ کتنی نَمازیں قضا ہوئی ہیں ۔ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہئے؟ارشاد: قضا نمازیں جلد سے جلد ادا کرنا لازِم ہے، نہ معلوم کس وقت موت آ جائے ، کیا مشکِل ہے کہ ایک دن کی بیس رَکعتیں ہوتی ہیں (یعنی فجر کی دو رکعت فرض اور ظہر کی چار فرض اور عصر کی چارفرض اور مغرب کی تین فرض اور عشاء کی سات رکعت یعنی چار فرض تین وِتر) ان نمازوں کوسوائے طلوع و غروب وزوال کے( کہ اس وقت سجدہ حرام ہے) ہر وقت ادا کر سکتا ہے اور اختیار ہے کہ پہلے فجر کی سب نمازیں ادا کر لے ، پھر ظہر ، پھر عصر ، پھر مغرب ، پھر عشاء کی یاسب نمازیں ساتھ ساتھ ادا کرتا جائے اور ان کا ایسا حساب لگائے کہ تخمینہ(یعنی اندازہ) میں باقی نہ رہ جائیں زیادہ ہو جائیں تو حَرَج نہیں اور