Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
97 - 736
(۲۱۶)۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے كہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو صف کے خلا کو پر کریگا اللہ عزوجل اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔''
    (طبرانی اوسط، رقم ۵۷۹۷ ،ج ۴، ص ۲۲۵)
(۲۱۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابی جُحَیْفَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جو صف کے خلا کو پر کرے گا اس کی مغفرت کردی جائے گی ۔''
(مجمع الزوائد ،کتا ب الصلوۃ ، باب صلۃ الصفو ف وسد الفرج ، رقم ۲۵۰۳ ، ج ۲، ص ۲۵۱)
(۲۱۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' دو قدم ایسے ہیں جن میں سے ایک اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ ہے اور دوسرا اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔ جو شخص صف میں خلا دیکھے پھر اسے پُر کرنے کیلئے چلے اور اسے پُر کردے تو اسکا یہ قد م اٹھانا اللہ عزوجل کو پسند ہے اور جو قدم اللہ عزوجل کو ناپسند ہے، وہ یہ کہ کوئی شخص کھڑا ہونے کیلئے اپنی دائیں ٹانگ پھیلا کر اس پر اپنا ہاتھ رکھے پھر اپنی بائیں ٹانگ کھڑی کر کے اٹھے ۔''
(المستد رک للحا کم ،کتاب الاما مۃ وصلوۃ الجماعۃ / خطوتان احدھما احب الی اللہ والاخری الخ ، رقم ۱۰۴۶ ، ج ۱، ص ۵۲۰)
تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' نماز کے انتظار میں بیٹھنے والا قیام کرنے والے کی طرح ہے اور اپنے گھر سے نکلنے کے وقت سے لوٹنے تک نمازیوں میں لکھا جاتا ہے۔''
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبا ن ، کتا ب الصلوۃ ،با ب الامامۃ والجماعۃ ،رقم ۲۰۳۶ ،ج ۳، ص ۲۴۳)
(۲۹۲)۔۔۔۔۔۔ امام احمد رضی اللہ تعالی عنہ اپنی مسند میں شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ہاتھ پر بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ایک عورت سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سرورِکونین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بنو سلمہ کے کچھ صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی تھے ۔ ہم نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا پھر ہم نے وضو کیلئے پا نی پیش کیا۔

     آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا پھر اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی طرف رخ کرکے فرمایا،'' کیا میں تمہیں گناہوں کو مٹانے والے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں؟'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا،'' ضرور بتایئے۔'' توارشادفرمایا،'' کہ مشقت کے وقت کامل وضو کرنا اور مسجد کی طر ف کثرت سے آمدورفت رکھنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔''
(مسند احمد ، مسند الانصار / حدیث عبداللہ بن السعد ی ،رقم ۲۲۳۸۹ ، ج ۸، ص ۳۱۱)
Flag Counter