Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
94 - 736
سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' بے شک اللہ عزوجل نے مجھے تین چیزیں عطا فرمائی ہیں مجھے باجماعت نَماز عطا فرمائی،مجھے سلام عطافرما یاجو کہ ا ہلِ جنت کی تحیت ہے اور مجھے آمین عطافرمائی اور یہ چیزیں اللہ عزوجل نے سوائے ہارون علیہ السلام کے کسی بھی نبی کو عطا نہیں فرمائیں، موسی علیہ السلام دعا مانگا کرتے اور ہارون علیہ السلام آمین کہا کرتے تھے۔''
    (الترغیب والترہیب ، کتاب الصلوۃ، الترغیب فی التامین خلف الامام ،رقم ۳ ج۱، ص ۱۹۴)
(۲۰۴)۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے سامنے یہودیوں کا تذکرہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' یہودیوں نے کسی چیز پر بھی ہم سے اتنا حسد نہیں کیا جتنا اس جمعہ پر کیا ہے، جس کی طرف اللہ عزوجل نے ہماری رہنمائی فرمائی او ر یہودی اس سے محروم رہے اور اس قبلہ پر جس کی طرف اللہ عزوجل نے ہماری رہنمائی فرمائی اور ہمارے امام کے پیچھے آمین کہنے پر۔''

     ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''یہودیوں نے تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا آمین کہنے اور سلام کرنے پر کیا ہے ۔''
   (مسند احمد،مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا،رقم ۲۵۰۸۳ ،ج ۹، ص ۴۵۹)
Flag Counter