(صحیح بخاری ، کتا ب الاذان ،باب جہر الماموم با لتا مین ،رقم ۷۸۲، ج ۲، ص ۲۷۵)
(۲۰۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جب تم نَماز پڑھنے لگو تو اپنی صفوں کو قائم کرلیا کرو اور تم میں سے ایک شخص امامت کرائے جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اورجب وہ
غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷﴾
کہے تو آمین کہا کرو ، اللہ عزوجل تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔''
(صحیح مسلم ، کتا ب الصلوۃ ،باب التشھد فی الصلوۃ ، رقم ۴۰۴، ص ۲۱۴)
(۲۰۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جب امام
غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷﴾
کہے اور مقتدی اس پر آمین کہے تو اللہ عزوجل اس بند ے کے پچھلے گناہ معاف فرمادیتا ہے، اور اس شخص کی مثال جو آمین نہ کہے اس شخص کی طر ح ہے جو کسی قوم کے ساتھ جہاد کیلئے نکلا پھر انہوں نے قر عہ ڈالا تو ان کاقر عہ نکل آیا مگر اس کا قرعہ نہ نکلا تواس نے کہا کہ میرا قرعہ کیوں نہیں نکلا تو اسے جو اب دیا گیا کہ تو نے آمین نہیں کہی۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب الصلوۃ ، باب التا مین ،رقم ۲۶۶۴، ج ۲،ص ۲۸۸)
(۲۰۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےكہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' یہودیوں نے تمہاری کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا حسد تمہارے آمین کہنے پر کیا ہے لہذا کثرت سے آمین کہا کرو ۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتا ب اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیھا ،باب الجھر باٰ مین ،رقم ۸۵۷ ،ج ۱، ص ۴۶۶)
(۲۰۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ
غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷﴾
کہے تو آمین کہا کرو کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو جائے اس کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔ ''
ایک روایت میں ہے کہ،'' جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے تو فرشتے آسمانوں پر آمین کہتے ہیں ، اگر ان دونوں کا قول موافق ہو جائے تواس شخص کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔''
ایک اور روایت میں ہے کہ ''جب امام'