(۱۹۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' قیامت کے دن تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلوں پر ہونگے پہلا وہ غلام جس نے اللہ عزوجل اور اپنے آقا کے حقوق ادا کئے، دوسرا وہ شخص جو کسی قوم کاامام بنااوروہ قوم اس سے راضی ہو ،تیسرا وہ شخص جو روزانہ پانچوں نَمازو ں کے لئے اذان دے۔''
ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ''تین طرح کے لوگو ں کو بڑی گھبراہٹ یعنی قیامت دہشت زدہ نہ کرسکے گی اور نہ ہی ان لوگوں کا حساب ہو گا اوروہ لوگوں کے حساب سے فارغ ہونے تک مشک کے ٹیلو ں پر ہونگے وہ شخص جو اللہ عزوجل کی رضا کے لیے قرآن پڑھے اور وہ شخص جو قوم کی رضا مندی سے امام بنے ۔۔۔۔۔۔الخ۔''