Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
92 - 736
قوم کی رضا سے امام بننے والے کا ثواب
(۱۹۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' قیامت کے دن تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلوں پر ہونگے پہلا وہ غلام جس نے اللہ عزوجل اور اپنے آقا کے حقوق ادا کئے، دوسرا وہ شخص جو کسی قوم کاامام بنااوروہ قوم اس سے راضی ہو ،تیسرا وہ شخص جو روزانہ پانچوں نَمازو ں کے لئے اذان دے۔''

    ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ''تین طرح کے لوگو ں کو بڑی گھبراہٹ یعنی قیامت دہشت زدہ نہ کرسکے گی اور نہ ہی ان لوگوں کا حساب ہو گا اوروہ لوگوں کے حساب سے فارغ ہونے تک مشک کے ٹیلو ں پر ہونگے وہ شخص جو اللہ عزوجل کی رضا کے لیے قرآن پڑھے اور وہ شخص جو قوم کی رضا مندی سے امام بنے ۔۔۔۔۔۔الخ۔''
(سنن ترمذی ،کتا ب البر و الصلۃ ،با ب ماجاء فی فضل المملوک الصالح ،رقم ۱۹۹۳ ،ج ۳ ،ص ۳۹۷)
(۱۹۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو قوم کا امام بنے اسے اللہ عزوجل سے ڈرنا چاہيے اور یہ جان لینا چاہيے کہ وہ ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی امامت کے بارے میں پوچھا جائے گا ،لہذا! اگر وہ اپنے منصب کو خوش اسلوبی سے نبھائے گا تو اسے اپنے پیچھے نَماز پڑھنے والوں کے برابر ثواب ملے گا اور ان نَمازیوں کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی اوراگر امامت کی ادائیگی میں کوئی کمی رہ گئی تو وہ خود ہی اس کا جواب دہ ہوگا۔''
(مجمع الزوائد ، کتا ب الصلوۃ ، با ب الامام ضامن ،رقم ۲۳۳۵ ،ج ۳ ،ص ۲۰۹)
Flag Counter