| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۹۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جس نے عشا کی نَماز باجماعت ادا کی ،اس نے شب قدر میں سے اپنا حصہ پالیا۔''
(طبرانی کبیر ،رقم۷۷۴۵، ج ۸، ص ۱۷۹)
(۱۹۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے وضو کیا اور مسجد میں حاضر ہوا اور فجر سے پہلے دورکعتیں پڑھیں اور فجر کی نَماز تک بیٹھا رہا تو اس کی اس دن کی نَماز نیک لوگوں کی نَماز میں شمار ہوگی اور اسے رحمن عزوجل کے وفد یعنی مہمانوں میں لکھا جائے گا ۔''
(طبرانی کبیر ،رقم ۷۷۶۶،ج ۸ ،ص ۱۸۵)
(۱۹۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' جو فجر کی نَماز باجماعت ادا کرتا ہے وہ اللہ عزوجل کی امان میں ہوتا ہے۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتا ب الفتن ، با ب المسلمون فی ذمۃ اللہ عزوجل ، رقم ۳۹۴۶ ، ج ۴ ،ص ۳۲۵)
(۱۹۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَلْمَان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،''جو صبح کو فجر کی نَماز کے لئے چلا وہ ایمان کا جھنڈا لئے چلا اور جو صبح کو بازار کی طرف چلا تو شیطان کا جھنڈا لے کر چلا۔''
حضرتِ سیدنا ابو بکر بن سلیمان بن ابو حَثمہ رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ ''حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک دن فجرکی نَماز میں میرے والدسلیمان بن ابو حثمہ رضی اللہ تعالی عنہ کونہ پایا تو بازار کی طرف چلے کیونکہ حضرت سیدنا سلیمان رضی اللہ تعالی عنہ کی رہائشگاہ مسجد اور بازار کے بیچ میں تھی ۔جب آپ رضی اللہ تعالی عنہ شفَا ء ام سُلَیْمان کے قریب سے گزرے تو ان سے کہا کہ،'' میں نے فجر کی نَماز میں سلیما ن کو نہیں دیکھا؟ ''تو انہوں نے جواب دیا،'' وہ ساری رات عبادت کرتے رہے صبح کو ان کی آنکھ لگ گئی۔''یہ سن کر حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ'' فجر کی نَماز باجماعت ادا کرنا میرے نزدیک ساری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے۔''(ابن ماجہ ،کتا ب التجارات ، باب الاسواق ودخولھا ،رقم ۲۲۳۴، ج ۳، ص ۵۳)
(۱۹۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے کامل وضو کیا پھر مسجد کی طرف چلا اور دیکھا کہ لوگ تو نَماز پڑھ چکے ہیں تواللہ عزوجل اسے باجماعت نَماز پڑھنے اور جماعت میں حاضرہونے والے کے برابر ثواب عطا فرمائے گا اوران لوگوں کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔''
(سنن ابی داؤد ،کتا ب الصلوۃ ،با ب فیمن خرج یریدالصلوۃ ، فسبق بھا، رقم ۵۶۴ ، ج ۱، ص ۲۳۴)