وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِکَانَ مَشْہُوۡدًا ﴿78﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور صبح کاقراٰن بے شک صبح کے قرآن میں فرشتے حا ضر ہوتے ہیں ۔ (پ15 ، بنی اسرآئیل : 78) مفسرین کرام فرماتے ہیں اس آیت مبارکہ میں فجر سے مراد صبح کی نَماز ہے کہ اس میں دن اور رات کے ملائکہ حاضرہوتے ہیں ۔ (۱۸۸)۔۔۔۔۔۔ امیرالمومنین حضرتِ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ''جس نے عشاء کی نَماز باجماعت ادا کی گویا اس نے آ دھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نَماز باجماعت ادا کی گویا اس نے پوری رات قیام کیا ۔''
(صحیح مسلم ،کتا ب المساجد ومواضع الصلوۃ ، با ب فضل صلوۃالعشا ء والصبح فی جماعۃ ،رقم ۶۵۶،ج ،ص ۳۲۹)
(۱۸۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےكہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' منافقین پر سب نَمازوں سے بھاری فجر اور عشاء کی نَماز ہے، اگر جان لیتے کہ ان دونوں نَماز وں میں کیا ہے تو ضرور حاضرہوتے اگرچہ گھسٹتے ہوئے آتے ،اور بیشک میں نے ارادہ کیا کہ میں نَماز قائم کرنے کاحکم دوں اور کسی شخص کو نَماز پڑھانے پر مقرر کروں پھر کچھ لوگو ں کو اپنے ساتھ چلنے کیلئے کہوں جو لکڑیا ں اٹھائے ہوئے ہوں پھر ان لوگوں کی طر ف جا ؤں جو نَماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں ۔''
(صحیح بخاری ، کتاب الاذان ، با ب فضل العشا ء فی الجماعۃ ، رقم ۶۵۷ ،ج ۱ ،ص ۲۳۵)
(۱۹۰)۔۔۔۔۔۔ امام طبرانی ایک شخص کا نام لئے بغیر روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالی عنہ پر نزع کا عالم طاری ہوا تو میں نے ان کو فرماتے ہوئے سناکہ میں تمہیں شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے سنی ہو ئی ایک حدیث سناتا ہوں ،(پھر فرمایا)میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' اللہ عزوجل کی اس طرح عبادت کرو گویاکہ تم اسے دیکھ رہے ہو اگرتم اسے دیکھ نہیں سکتے تو بے شک وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرواور مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہوکیونکہ وہ ضرور قبول ہوتی ہے اور تم میں جو فجر اور عشاء کی نما ز میں حاضر ہوسکے اگرچہ گھسٹتے ہوئے تو اسے چاہیے کہ وہ ضرور حاضر ہو۔''
(مجمع الزوائد ،کتا ب الصلوۃ ، با ب فی صلوۃ العشا ء الاخرۃ والصبح فی جماعۃ ، رقم ۲۱۴۹ ج۲ ص ۱۶۵)