| جنت میں لے جانے والے اعمال |
باجماعت نماز ادا کرے اوراس کی عشاء کی نماز سے پہلی رکعت فوت نہ ہو تو اللہ عزوجل اس کیلئے جہنم سے نجات لکھ دے گا ۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتا ب المساجد والجماعات ، باب صلوۃ العشا ء والفجر فی جماعۃ ، رقم ۷۹۸ ،ج ۱ ،ص ۴۳۷)
(۱۸۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابی بن کَعْب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں كہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہمیں فجر کی نَماز پڑھائی پھر ارشاد فرمایا، ''کیا فلاں شخص حاضر ہے؟'' عرض کیا گیا ''نہیں ۔''پھر پوچھا ،''کیا فلاں حاضر ہے؟ ''عرض کیا گیا،'' نہیں۔'' پھر فرمایا،''بیشک فجر اور عشاء کی نَمازیں منافقین پر سب سے زیادہ بھار ی ہیں، اگر جانتے کہ ان نَمازوں میں کیا ہے ؟تو ان نَمازوں میں ضرور حاضر ہوتے ،اگر چہ گھسٹتے ہوئے آتے ،اور بیشک پہلی صف ملائکہ کی صف کی مثل ہے، اور اگر تم پہلی صف کی فضیلت جان لیتے تو اسے حاصل کرنے کیلئے جلد بازی سے کام لیتے ،اور بے شک ایک مسلمان کے ساتھ نَماز پڑھنا تنہا نَماز پڑھنے سے افضل ہے اور دومسلمانوں کے ساتھ نَماز پڑھنا ایک مسلمان کے ساتھ نَمازپڑھنے سے افضل ہے اور جماعت جتنی بڑی ہو اللہ عزوجل کو اتنی ہی زیا دہ پسند ہے۔ ''
(مسند احمد ، مسند الانصا ر ،حدیث ابی بصیر وابنہ عبداللہ بن ابی بصیر ، رقم ۲۱۳۲۳ ، ج ۸، ص ۵۷)
(۱۸۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ثابت بن اَشَیْم اللیثی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' دوشخصوں کا اس طرح نَماز پڑھنا کہ ان میں سے ایک امام بنے،اللہ عزوجل کے نزدیک چار افرادکے علیحدہ علیحد ہ نَماز پڑھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، اور چار کا باجماعت نَمازپڑھنا آٹھ افراد کے الگ الگ نَماز پڑھنے سے افضل ہے، اور آٹھ افراد کا باجماعت نَماز پڑھنا سو افراد کے تنہا نَماز پڑھنے سے افضل ہے۔''
(طبرانی کبیر،رقم ۷۳ ،ج ۱۹ ،ص ۳۶)