Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
87 - 736
مسلمان ہوکر ملے اسے چاہیے کہ جب اذان ہوتو ان نَمازوں کو پابندی سے ادا کرلیا کرے کیونکہ اللہ عزوجل نے تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ہدایت والے طریقے عطا فرمائے ہیں اور بے شک یہ نَمازیں انہی میں سے ہیں۔ اگر تم اپنے گھر میں نَماز پڑھو گے جیسے اس نَماز سے پیچھے رہنے والے شخص نے اپنے گھر میں نَمازادا کی تو بے شک تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیا اور اگر تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو شخص اچھے طریقے سے وضو کرے پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کی طر ف آئے تو اللہ عزوجل اس کے لئے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھے گا اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گااور اس کا ایک گنا ہ معاف فرما دے گا۔ ہم دیکھا کرتے تھے کہ کھلا منافق ہی جماعت سے پیچھے رہتا ہے اور  جبکہ کسی آدمی کو  تو دو افراد سہارادے کر لاتے اور صف میں کھڑا کردیتے ۔''

     ایک روایت میں ہے کہ ''رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جو ہدایت والے طریقے سکھا ئے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس مسجد میں اذان ہوتی ہو اس میں نماز پڑھنا بھی سنت مؤکدہ ہے ۔''
(صحیح مسلم ،کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ ،باب صلوۃ الجماعۃ من سنن الھدی، رقم ۶۵۴ ، ۳۲۸)
(۱۸۲)۔۔۔۔۔۔ امیر المومنین حضرتِ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےشہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' جس نے کامل وضو کیا اور کسی فرض نَماز کی ادائیگی کے لئے چلا اور نَماز باجماعت ادا کی تو اس کے گنا ہ معاف کردئیے جائیں گے۔''
(الترغیب والترہیب ، کتا ب الصلوۃ ، الترغیب فی المشی الی المساجد،رقم ۶ ، ج ۱، ص ۱۳۰)
(۱۸۳)۔۔۔۔۔۔ امیرالمومنین حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہو ئے سنا کہ،'' اللہ عزوجل باجماعت نَماز پڑھنے والوں سے خو ش ہوتاہے ۔''
 (مسنداحمد ، مسند عبداللہ بن عمر بن الخطا ب ، رقم ۵۱۱۲ ،ج ۲ ،ص ۳۰۹)
(۱۸۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' جو اللہ عزوجل کی رضا کے لئے چالیس دن باجماعت تکبیر اولی کے ساتھ نَماز پڑھے گا اس کے لئے دوآزادیاں لکھی جائیں گی ، ایک جہنم سے دوسری نفا ق سے۔''
(سنن ترمذی ،ابو اب الصلوۃ ،با ب ماجاء فی فضل التکبیرۃ الاولی ، رقم ۲۴۱، ج ۱، ص ۲۷۴)
(۱۸۵)۔۔۔۔۔۔ امیر المومنین حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےتاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم فرمایاکرتے تھے کہ ''جو چالیس دن مسجد میں
Flag Counter