Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
85 - 736
نماز کی ابتدامیں پڑھے جانے والے کلمات کا ثواب
(۱۷۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ ہم خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ نَماز پڑ ھ رہے تھے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے ایک شخص نے کہا،
'' اَللہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا وَّالْحَمْدُلِلّٰہِ کَثِیْرًاوَّسُبْحَانَ اللہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا
ترجمہ :اللہ بہت بڑا ہے اور تمام تعریفیں اللہ عزوجل ہی کے لئے ہیں اور میں صبح وشام اللہ عزوجل کی پاکی بیان کرتاہوں۔ ''

تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا،'' یہ کلمات کہنے والا کون ہے ؟'' تو وہ شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا،'' وہ میں ہو ں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !'' آپ نے ارشاد فرمایا،'' مجھے ان کلمات سے بہت خوشی ہوئی ان کی وجہ سے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے۔'' حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں،''جب سے میں نے رسول ِاکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سناہے میں نے یہ کلمات پڑھنا کبھی نہیں چھوڑے ۔''
(صحیح مسلم ، کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ ،باب مایقول بین تکبیرۃ الاحرام والقراء ۃ ،رقم ۶۰۱، ص ۳۰۲)
رکوع سے اٹھتے وقت پڑھے جا نے والے کلمات کا ثواب
(۱۷۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا رِفاعہ بن رافع زُرَقی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ''ہم تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی اقتداء میں نَماز ادا کررہے تھے ۔جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے اپنا سر اٹھایاتو
سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ
کہا ۔پیچھے سے ایک شخص نے کہا،
'' رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ
۔ترجمہ :اے رب عزوجل تیرے لئے ہی تمام خوبیاں ہیں بے شمار پاکیزہ اور بر کتوں والی۔''

     جب سرورِکونین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا فرمالی تو دریافت فرمایا،'' یہ کلمات کہنے والا کون تھا؟''اس شخص نے عرض کیا،''میں ہوں۔'' تو ارشاد فرمایا،''میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو ان کلمات کو لکھنے میں سبقت کرتے ہوئے دیکھا ۔ ''
(صحیح بخاری ،کتا ب الاذان ،باب فضل اللھم ربنا لک الحمد، رقم ۷۹۹ ، ج ۱ ،ص ۲۸۰)
(۱۷۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' جب امام
سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ
کہے توتم ا
للّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ
کہا کرو کیونکہ جس کاقول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گا اس کے پچھلے گنا ہ معاف کردئیے جائیں گے۔''جبکہ ایک روایت میں ہے کہ
رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ
کہاکرو۔
(صحیح بخاری ،کتا ب الاذان ،باب فضل اللھم ربنا لک الحمد، رقم۷۹۶،ج ۱، ص ۲۷۹)
Flag Counter