| جنت میں لے جانے والے اعمال |
ہے؟'' ارشاد فرمایا، '' جنا بت سے غسل کر نا ،اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کواس کے دین میں غسل ِ جنابت کے علا وہ کسی چیز میں رخصت عطا نہیں فرمائی ۔
(مجمع الزوائد ، کتاب الایمان ،با ب فیمابنی علیہ الاسلام ، رقم ۱۳۹، ج ۱، ص ۲۰۴)
(۱۵۹)۔۔۔۔۔۔ کاتب وحی حضرتِ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سناکہ ''جو پابندی سے پانچوں نَمازیں اداکرے اور ان کے رکوع وسجود او ر اوقات کا لحاظ رکھے اور یہ یقین کرے کہ یہ اللہ عزوجل کاحق ہيں وہ جنت میں داخل ہوگا یا اس کے لئے جنت واجب ہوجائے گی یایہ فرمایا کہ اس پر جہنم حرام ہے۔''
(مسند احمد ، رقم ۱۸۳۷۳ ، ۱۸۳۷۴ ، ج ۶، ص۳۷۲)
(۱۶۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے فرمایا،'' تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔'' میں نے عرض کیا ''وہ چھ چیزیں کونسی ہیں؟ ''ارشاد فرمایا،''نماز ،زکوٰۃ ،امانت ، شرمگاہ،پیٹ اورزبان۔''
(طبرانی اوسط ، رقم۴۹۲۵ ،ج ۳، ص ۳۹۶)
(۱۶۱ ) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ دن اور رات میں کچھ فرشتے تمہیں تلاش کر تے ہیں اور وہ نَماز فجر وعصر میں اکٹھے ہوتے ہیں اور پھر جب تمہارے ساتھ رات گزارنے والے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں تو ان کا رب عزوجل ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ تمہیں ان سے زیادہ جانتا ہے، ''تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟''تووہ عرض کرتے ہیں کہ ''جب ہم ان سے جدا ہوئے تو وہ نَماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تو اس وقت بھی وہ نَماز پڑھ رہے تھے ۔''جبکہ ابن خزیمہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ(فرشتے عرض کرتے ہیں)'' اے اللہ عزوجل !قیامت کے دن ان کی مغفرت فرمادینا۔ ''
(صحیح بخاری ، کتاب بدء الخلق ، با ب ذکر الملائکۃ ، رقم ۳۲۲۳ ، ج ۲ ،ص ۳۸۵)
(۱۶۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا بکر بن عمار رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےخاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،''جس نے سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے نَماز ادا کی یعنی جس نے فجر اور عصر کی نما ز ادا کی وہ ہر گز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔ ''
(صحیح مسلم ،کتا ب المساجدومواضع الصلوۃ ،باب فضل صلاتی الصبح والعصر الخ ،رقم ۶ ،ص ۳۱۸)
(۱۶۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جُنْدَب بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جس نے فجر کی نَماز ادا کی وہ اللہ عزوجل کی امان میں ہے، لھذاکوئی شخص اللہ عزوجل کی امان میں خلل نہ ڈالے کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کی امان میں خلل ڈالے گا ،اللہ