| جنت میں لے جانے والے اعمال |
سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم فرمایا کرتے کہ'' ہر نَمازپچھلے گناہوں کو مٹادیتی ہے۔''
(مسند احمد ، حدیث ابی ایوب الانصاری ، رقم ۲۳۵۶۲ ،ج ۹ ،ص ۱۳۱)
(۱۵۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں كہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت اقدس میں ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کیا ، ''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم! مجھ پر حد(یعنی اسلامی سزا) لازم ہوگئی ہے ،لہذا مجھ پر حد قائم فرمائیں ۔'' اسی اثناء میں نَماز کا وقت ہو گیا تواس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نَماز ادا کی۔ جب سرورِکونین صلی اللہ علیہ وسلم نے نَمازادا فرمالی تو اس نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم!مجھ پر حد لازم ہو گئی ہے لہذا کتاب اللہ کا حکم مجھ پر قائم کیجئے ۔''تو سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' کیا تم نے ہمارے ساتھ نَماز پڑھی ہے؟ ''اس نے عرض کیا، ''جی ہاں۔'' فرمایا ،''تمہا ری مغفرت ہوگئی۔''
(صحیح بخاری ، کتا ب المعا ر بین من اھل الکفر والردۃ ،باب اذا اقر با لحد الخ ، رقم ۶۸۲۳، ج۴ ،ص ۳۴۲)
وضاحت:
اس حدیث مبارکہ میں حد لازم ہونے سے مراد یہ ہے کہ میں ایسے گناہ کا مرتکب ہو گیا ہوں جو تعزیر کو واجب کرتاہے یہ مراد ہر گز نہیں کہ اس شخص نے موجبِ حد گناہ مثلاً زنا کیا یا شراب نوشی وغیرہ کا ارتکاب کیا تھا کیونکہ ان گناہوں کو نَماز نہیں مٹا سکتی اورنہ ہی حاکم اسلام کو ایسے شخص کوچھوڑنے کی اجازت ہے اور اس کی وضاحت دیگر احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب (۱۵۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کسی عورت کا بوسہ لے بیٹھا پھر وہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اپنے گناہ کا اعتراف کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی،
وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیۡلِ ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ
ترجمہ کنزالایمان :اور نما زقائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔(پ 12 ،ھود : 114) تو اس شخص نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ آیت کس کے لئے نازل ہوئی ہے؟ ''فرمایا،'' میری ساری امت کیلئے۔''
(صحیح بخاری ، کتا ب مواقیت الصلوۃ ، با ب الصلوۃ کفارۃ ، رقم ۵۲۶ ،ج ۱، ص ۱۹۶)
(۱۵۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''پانچ چیز یں ایسی ہیں جو انہیں ایما ن کی حالت میں ادا کریگا جنت میں داخل ہوگا، جو پانچ نَماز وں کے وضو ،رکوع ،سجود اور اوقات کا لحاظ رکھے اور رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت رکھتا ہو تو بیت اللہ کا حج کرے اور خوش دلی کے ساتھ زکوٰۃ اور اما نت ادا کرے۔'' عر ض کیا گیا، ''یا ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اما نت کی ادا ئیگی سے کیا مرا د