(۱۵۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمر و بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، ''یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم!آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں گواہی دوں کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں اورآپ 'اللہ عزوجل کے رسو ل صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہیں اور میں پانچوں نَمازیں ادا کروں اور زکوٰۃ ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور اس میں قیام کروں تو میرا شمار کن لوگوں میں ہوگا ؟''تو ارشاد فرمایا ''صدیقین یا شہداء میں۔''
(صحیح ابن حبان ،باب فضل رمضا ن الخ ، رقم ۲۹ ، ج ۵، ص ۱۸۴)
(۱۵۴) ۔۔۔۔۔۔ امیر المو منین حضرتِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام حضرتِ سیدنا حارث رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضر ت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اذا ن کا وقت ہو گیا توآپ رضی اللہ عنہ نے وضو کے لئے پانی مانگا۔ میرا خیال ہے کہ وہ پانی ایک مد(ایک پیمانہ) کی مقدارمیں تھا ۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے وضو کیا پھر فرمایا،'' میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہو ئے دیکھا تو نبئ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
'' جو اس طرح وضو کرے پھر ظہر کی نَماز ادا کر ے تواس کے ظہر اورفجر کے درمیان کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے ، پھر عصر کی نماز ادا کرے تو اس کے عصر اور ظہر کے درمیان کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے ، پھر مغرب کی نَماز ادا کرے تو اس کے عصر اور مغرب کے درمیان کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے، پھر عشا ،کی نَماز پڑھے تو اس کے عشاء اور مغرب کے درمیان کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ،پھر شایدوہ اپنی رات لیٹ کر گزارے ،اور اگر وہ بیدارہو کر وضو کرکے صبح کی نَماز پڑھے گا تو فجر وعشاء کے درمیان کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے ،یہ نَمازیں وہی حسنات (یعنی نیکیاں) ہیں جو برائی کومٹا دیتی ہیں ۔''صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا''اے عثمان! رضی اللہ عنہ ''یہ تو حسنات ہیں باقیات سے کیا مراد ہے؟ ''فرمایا وہ
لَاحَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ ہیں۔''
(مسند احمد ، مسند عثمان بن عفان ، رقم ۵۱۳ ،ج ۱، ص ۱۵۴)
(۱۵۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر،