| جنت میں لے جانے والے اعمال |
سے گزرے اس میں نہالے تو کیا گرد میں سے کچھ باقی بچے گا ؟
(پھر خود ہی ارشاد فرمایا) یہی نَماز کی مثال ہے جب بھی کوئی بندہ گناہ کرے پھر اللہ تعالی سے دعامانگے اور مغفرت چاہے تواس کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتیہیں ۔''(طبرانی اوسط ، رقم ، ۱۹۸ ،ج ۱، ص۷۱)
(۱۴۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' پانچ نَمازیں اور نَماز جمعہ اگلے جمعہ تک درمیان کے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جب تک کبیرہ گناہ نہ کئے جا ئیں ۔''
(صحیح مسلم ،کتا ب الطہارۃ ،با ب الصلوۃ الخمس الخ, رقم ۲۳۳ ،ج ،ص ۱۴۴)
(۱۴۹)۔۔۔۔۔۔ امیر المومنین حضرتِ سیدناعثمان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہو ئے سنا کہ'' جس مسلمان پر فرض نَماز کا وقت آئے اور وہ نَماز کے لئے اچھے طریقے سے وضو کرے اور اسے خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرے تو یہ نَماز اس کے پچھلے گناہوں کے لئے کفارہ ہوجائے گی جب تک کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے ،اور یہ عمل ساری زندگی جاری رہے گا یعنی وہ نماز اسکے گناہوں کا کفار ہ بنتی رہے گی۔''
(صحیح مسلم ، کتاب الطہارۃ ، با ب فضل الوضوء ، الصلوۃ عُقْبَہ ، رقم ۲۲۸ ،ص ۱۴۲)
(۱۵۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''(اگر)تم سے مسلسل گناہ ہوتے رہیں لیکن جب تم فجر کی نما ز ادا کروگے تو وہ تمہارے ان گنا ہو ں کو دھو دے گی، اس کے بعد پھر تم سے مسلسل گنا ہوں کا صدور ہوتا رہے لیکن جب ظہر کی نَماز ادا کروگے تو وہ تمہا رے گناہو ں کو دھو دے گی، اس کے بعد پھر گنا ہ ہوتے رہیں لیکن جب عصر کی نَماز ادا کر وگے تو وہ تمہا رے گناہو ں کو دھو دے گی، اس کے بعد پھر گنا ہ مسلسل ہوتے رہیں لیکن جب تم مغرب کی نَماز ادا کر وگے تو وہ تمہا رے گناہو ں کو دھودے گی، اس کے بعد بھی تم سے گناہوں کا صدور ہوتا رہے لیکن جب تم عشاء کی نَماز ادا کر وگے تو وہ تمہا رے گناہو ں کو دھودے گی ۔پھر تم سو جاؤ گے تو بیدار ہونے تک تمہا ر اکوئی گناہ نہ لکھا جائے گا ۔''
(مجمع الزوائد ، کتا ب الصلوۃ ، باب فضل الصلوۃ وحقنھا للدم ،رقم ۱۶۵۸ ، ج ۲، ص ۳۳ )
(۱۵۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن مسعو د رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' ہر نَماز کے وقت ایک منادی بھیجا جاتا ہے وہ کہتاہے :اے ابن آدم !اٹھ کھڑے ہواور جو آگ تم نے اپنے لئے جلائی ہے اسے بجھا دو ۔''پس لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اچھی طرح طہارت حاصل کرتے ہیں تو ان کے دو نَمازوں کے درمیان کے گناہ مٹادئیے جاتے ہیں ، پھر جب نَماز عصر کا وقت ہوتا ہے